پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث منفی رجحان دیکھا گیا، جس کے باعث مارکیٹ پر منفی جذبات حاوی ہو گئے۔اس بحرانی صورتحال کے نتیجے میں کاروباری سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔

دورانِ ٹریڈنگ دوپہر 12 بج کر 33 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,706.67 پوائنٹس یا 0.94 فیصد کمی کے ساتھ 180,535.10 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ ترین کشیدگی اور عالمی سطح پر ان کے ممکنہ معاشی اثرات کے خوف نے مقامی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کی وجہ سے حصص بازار میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں ہر طرف فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ حبکو، ماری ، او جی ڈی سی، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایم سی بی ، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔

گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج کی مسلسل تیزی کا سلسلہ اس وقت ٹوٹ گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی نئی فوجی کارروائیوں اور کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ اس صورتحال کے باعث مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت دیکھی گئی جس کے نتیجے میں انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,130.43 پوائنٹس کی کمی سے 182,241.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی شیئر مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھی گئی کیونکہ خلیج میں جاری لڑائی شدت اختیار کرگئی اور ایران نے اہم آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی پیدا کردی جس سے افراطِ زر کے خطرات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔

امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کا تخمینہ کم کردیا ہے۔ یہ پیش رفت فیڈ چیئر کیون وارش کے اپنے نئے عہدے پر پہلی بار کانگریس کے سامنے پیش ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے سامنے آئی ہے۔

منگل کو آنے والے جون کے مہینے کے افراطِ زر کے اعداد و شمار سے ہیڈلائن ریٹ میں 4.2 فیصد تک کچھ بہتری ظاہر ہوسکتی ہے جس کی بڑی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں گراوٹ ہے، اگرچہ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی کے بعد اس بہتری کا کچھ حصہ ختم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو کہ حال ہی میں 70.14 ڈالر کی نچلی سطح پر تھی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 4.1 فیصد کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 74.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے حفاظت فراہم کی گئی ہے، اگرچہ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس پر ٹریفک کی بہت کم سرگرمی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب ایکویٹی سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ کارپوریٹ آمدن کا سیزن پیشین گوئیوں کے مطابق مثبت رہے گا۔ بڑے بینکوں کی جانب سے اپنی رپورٹیں پیش کرنے کے ساتھ اس سیزن کا آغاز منگل سے ہورہا ہے جب کہ نیٹ فلکس اور جنرل الیکٹرک کے نتائج بھی شیڈول میں شامل ہیں۔

ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ نیس ڈیک فیوچرز میں 0.9 فیصد کی کمی ہوئی۔ یورپ میں یورو اسٹوکس 50 اور ڈیکس فیوچرز دونوں 0.6 فیصد گر گئے جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.1 فیصد کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔

جاپان کے نِکی انڈیکس میں 1.6 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جبکہ گزشتہ ہفتے بھی اس میں 1.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔ اسی دوران جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کے وسیع تر انڈیکس ایم ایس سی آئی میں 0.9 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

جنوبی کوریا کی مارکیٹ، جو کسی زمانے میں شدید تیزی کا شکار تھی 5.4 فیصد گر چکی ہے اور اب توجہ کا مرکز رہے گی، کیونکہ سیمی کنڈکٹر کے حصص پر لیوریجڈ شرطوں پر دباؤ آنے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے اسے تقریباً 8 فیصد کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ یہ مارکیٹ چپ کے شعبے کے جذبات کو جانچنے کے لیے ایک کلیدی عالمی بیرومیٹر بن کر ابھری ہے اور یہاں ہونے والے مزید نقصانات کے اثرات بڑے پیمانے پر دیگر مارکیٹوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے