ریکارڈ ترسیلات زر، وزیراعظم کا اوورسیز پاکستانیوں کو زبردست خراج تحسین
- محبِ وطن اوورسیز پاکستانیوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو مالی سال 2025-26 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنگِ میل حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
ایک بیان میں وزیراعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو مالی سال 2024-25 میں موصول ہونے والے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محبِ وطن اوورسیز پاکستانیوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں، جس پر ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔
وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کو قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت میں ان کی خدمات ناگزیر ہیں اور پوری قوم پاکستان سے ان کی مستقل وابستگی پر فخر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر میں 8.6 فیصد اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مفادات اور فلاح و بہبود کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔
دوسری جانب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 3.5 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ جبکہ مئی کے مقابلے میں 18.3 فیصد کم تھیں، جو گزشتہ مہینوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد موسمی سست روی کی عکاسی کرتی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 38.3 ارب ڈالر کے ریکارڈ سے زیادہ ہیں۔
جون کے دوران سعودی عرب ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں مقیم پاکستانیوں نے 829.6 ملین ڈالر وطن بھیجے۔
اس کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 792.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 514.9 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 296.8 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر سب سے زیادہ آتی ہیں۔ لاکھوں پاکستانی، خصوصاً خلیجی ممالک میں، روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم طویل عرصے سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ رہی ہیں، جو نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی آمدنی میں معاون ثابت ہوتی ہیں بلکہ معاشی دباؤ کے ادوار میں پاکستان کے بیرونی مالیاتی استحکام کو بھی سہارا فراہم کرتی ہیں۔
سعودی عرب، جہاں سب سے زیادہ پاکستانی محنت کش مقیم ہیں، مسلسل پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026