گلگت بلتستان میں شمسی توانائی: 82 میگاواٹ منصوبے کا پی سی ون ایکنک کو ارسال
- شمسی توانائی کے ذریعے صاف، سستی اور پائیدار توانائی کا فروغ قومی توانائی پالیسی کا ایک اہم جزو ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے پر اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں انہیں بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلٹی اسکیل سولر کمپوننٹ کیلئے پی سی ون باقاعدہ طور پر منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی برائے قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کو جمع کروا دیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق 82 میگاواٹ کا یہ سولر منصوبہ تقریباً 13 لاکھ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا اور خطے میں لوڈ شیڈنگ کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ماحول دوست، صاف ستھری، سستی اور پائیدار توانائی کے اہم جزو کے طور پر شمسی توانائی کو فروغ دینے کی قومی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے 100 میگاواٹ کے اس سولر اقدام کو وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا اور پاور ڈویژن کو اس کی بروقت تنصیب اور تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے سولر پروجیکٹ کے حصول کے عمل میں مکمل شفافیت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ہدایت کی کہ تمام ادائیگیاں صرف تھرڈ پارٹی سے مکمل تصدیق کے بعد ہی کی جائیں۔
بریفنگ کے دوران حکام نے منصوبے پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ 82 میگاواٹ کے یوٹیلیٹی اسکیل کمپوننٹ کے علاوہ 18 میگاواٹ کا ایک سولر سسٹم جو بیٹری اسٹوریج کے ساتھ مکمل ہوگا، دسمبر تک گلگت بلتستان بھر کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد سروس کے معیار کو مزید بہتر بنانا اور خطے کو توانائی میں خود کفیل بنانے میں مدد کرنا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں سرکاری بجلی کے منصوبوں کے لیے ضبط شدہ سولر پینلز کے استعمال کے منصوبے کی منظوری دی تھی جس میں 100 میگاواٹ کی گنجائش خاص طور پر جی بی کے دور دراز علاقوں میں تقسیم شدہ سولر فوٹو وولٹک منصوبوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔