امریکہ ایران کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،100 انڈیکس 4,600 پوائنٹس گر گیا
- ٹرمپ کے ایران سے متعلق بیان کے بعد فروخت کا دباؤ شدت اختیار کر گیا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 181,629.36 پوائنٹس پر بند
امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور خام تیل کی فروخت پر پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,600 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب ”ختم“ ہو چکی ہے اور وہ تہران سے مزید بات چیت نہیں چاہتے، کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ مزید شدت اختیار کر گیا۔
مارکیٹ نے دن کا آغاز نسبتاً مستحکم انداز میں کیا اور ابتدائی کاروبار کے دوران انڈیکس 184,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر رہا۔ تاہم دوپہر کے آغاز پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اچانک کمی آئی، جس کے بعد تقریباً تمام شعبوں میں جارحانہ فروخت شروع ہوگئی۔ اس دوران بینچ مارک انڈیکس مختصر وقت میں 5,500 سے زائد پوائنٹس گر گیا اور کاروبار کے دوران 179,504.34 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔
شدید گراوٹ کے بعد کم قیمتوں پر خریداری کے خواہشمند سرمایہ کار متحرک ہوئے، جس سے مارکیٹ نے اپنی کچھ کھوئی ہوئی پوزیشن بحال کر لی۔ کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی کاروباری کم ترین سطح سے تقریباً 2,100 پوائنٹس سنبھلا، تاہم یہ بحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس محدود دائرے میں حرکت کرتا رہا اور بالآخر 181,600 پوائنٹس کے قریب بند ہوا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 181,629.36 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 4,626.19 پوائنٹس یا 2.48 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج مندی کے ساتھ بند ہوئی کیونکہ 100 انڈیکس کے دورانِ ٹریڈنگ اپنی اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔ اس تصحیح کے باوجود آنے والے مالیاتی نتائج کے سیزن میں مضبوط کارپوریٹ آمدنی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جس سے نقصانات کی شدت کو محدود کرنے میں مدد ملی۔
گزشتہ روز100 انڈیکس 1,199.14 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 186,255.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کردی اور ایران کو خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کردیا۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین ٹینکرز پر پروجیکٹائلز (گولہ باری) سے حملے کے بعد کیا گیا جس سے پہلے سے کمزور جنگ بندی پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران امریکی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس نے گزشتہ سیشن کی تیزی کو مزید بڑھا دیا۔ اسی دوران امریکی ڈالر بھی اپنے ہم عصر کرنسیوں کے مقابلے میں ہفتے کی بلند ترین سطح پر برقرار رہا۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹوں نے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو بڑھا دیا ہے جس کا امکان منگل کو تقریباً 57 فیصد تھا، جو اب 67 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔
سرمایہ کار بدھ کو بعد میں آنے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 16-17 جون کے اجلاس کے منٹس (کارروائی کی تفصیلات) کا بھی انتظار کر رہے ہیں تاکہ نئے فیڈ چیئر کیون وارش کے ماتحت شرح سود کے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں نئے اشارے مل سکیں۔
منگل کو نیویارک فیڈ کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ جون کے مہینے میں امریکی صارفین قلیل مدتی مہنگائی کے دباؤ کے حوالے سے مزید فکرمند ہو گئے ہیں۔“