کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کا ڈیجیٹل پورٹل انویسٹ پاک لانچ، حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری آسان

  • سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ حکومتی پالیسی کا ایک اہم مقصد ہے، وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا ہے کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ سرکاری سیکیورٹیز تک رسائی کو ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع بنا کر تجارتی بینکوں پر مالیاتی ضروریات کیلئے انحصار بتدریج کم کیا جائے۔

اسٹیٹ بینک کے انوسٹ پاک پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پورٹل کو سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔

مرکزی بینک نے انوسٹ پاک پورٹل کو ایک ڈیجیٹل انوسٹمنٹ پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا جسے انفرادی اور کارپوریٹ دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری سیکیورٹیز (بانڈز) میں سرمایہ کاری کے عمل کو ہموار اور ڈیجیٹائز کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ حکومتی پالیسی کا ایک اہم مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے نقطۂ نظر سے بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کے دائرہ کار میں تنوع پیدا کرنا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں بینکوں کے چیف ایگزیکٹو افسران سے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے حوالے سے ملاقات کی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے تجارتی بینکوں سے ضرورت سے زیادہ قرض لینا ایک عرصے سے باعثِ تشویش رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایک سوال جو ہمیشہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا حکومت ضرورت سے زیادہ قرض لے رہی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود ہو رہی ہے۔ اس میں کچھ حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے ذرائع کو متنوع بنایا جائے اور اس سلسلے میں تجارتی بینکوں پر انحصار کم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جتنا زیادہ ہم تجارتی بینکوں پر انحصار کم کریں گے، خصوصاً آپ میں سے جو نان بینکنگ فنانشل انسٹی ٹیوشنز سے تعلق رکھتے ہیں، میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ آپ بھی زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے کاروباری ماڈلز اور اثاثہ و واجبات کے انتظام کے ماڈلز کے تناظر میں بھی یہ مناسب ہے کہ آپ اس عمل کا حصہ بننے اور اپنا کردار ادا کرنے کے طریقوں پر غور کریں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان اب بھی حکومتی قرضوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حد سے زیادہ تجارتی بینکوں پر انحصار کرتا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے بالآخر معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی قرضوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمارا انحصار بینکاری شعبے پر ضرورت سے زیادہ ہے۔ وقت کے ساتھ ہمیں اپنے مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع لانا ہوگا تاکہ بینکوں کے پاس نجی شعبے کو قرض فراہم کرنے کے لیے نہ صرف گنجائش بلکہ مطلوبہ آمادگی بھی موجود ہو اور وہ اس شعبے کی مالی ضروریات مؤثر انداز میں پوری کرسکیں۔

وزیرِ خزانہ نے ٹیکنالوجی کو مالی شمولیت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سرمایہ کاری کو زیادہ تیز، کم لاگت اور زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں جبکہ سرمایہ کاری کے مواقع تک عوام کی رسائی کو بھی وسیع کرتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں گزشتہ 12 سے 18 ماہ کے دوران ایکویٹی میں سرمایہ کاروں کی شرکت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ ہم نے ایکویٹی سرمایہ کاری میں حوصلہ افزا ترقی دیکھی ہے لیکن فکسڈ انکم کے شعبے میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ اقدام ہمیں درست سمت میں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔