ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات ناگزیر، وزیر خزانہ
- تمام کراس سبسڈیز ختم کر دی گئی، بجلی کی قیمت میں مزید کمی آئے گی، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ محصولات کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ناگزیر ہے جس سے نہ صرف لیکیج کا خاتمہ ہوگا بلکہ محاصل کی وصولی بھی بڑھے گی۔
فیصل آباد چیمبر میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ کے بعد کی کانفرنس نہیں بلکہ مالی سال 2027-28 کے بجٹ کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ بجٹ کی تیاری کی ذمہ دار ہے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو صرف ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس وصولی کے معاملات دیکھے گا۔
نجی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اسے معیشت کی قیادت کرنی ہوگی۔
فنانسنگ کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ شرح سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11.5 فیصد کر دیا گیا ہے، اگر ایران کا تنازع فوری طور پر حل ہو جائے تو اسے مزید نیچے لایا جا سکتا ہے۔
بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے مختص فنڈز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ابتدائی (اضافی) رقم ہے جبکہ اگلے بجٹ میں انہیں مزید مراعات دی جائیں گی۔
بجلی ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام کراس سبسڈیز ختم کر دی گئی ہیں جس سے بجلی کی قیمت میں مزید کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاملے پر بات چیت جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ایڈوانس اور سپر ٹیکس ختم کردیے گئے ہیں۔
انہوں نے ابھرتے ہوئے آئی ٹی سیکٹر کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اس نے 4.5 ارب امریکی ڈالر تک کی برآمدات کی ہیں اور اب حکومت انہیں ایک مؤثر ایکو سسٹم (کاروباری ماحول) فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعمیراتی شعبے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے لیکن صرف فائلز کی خرید و فروخت کے نظام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آٹومیشن کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر فرد کا ریکارڈ نادرا اور ایف بی آر کے پاس موجود ہے جسے ٹیکسوں کے لیکج کو ختم کرنے کے لیے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل شوگر سیکٹر سے شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے حکومت نے 60 ارب روپے کا اضافی سیلز ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے ایک نئی درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی متعارف کرائی جائے گی جو اس شعبے کو ٹیرف کے نظام میں نمایاں ریلیف فراہم کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ زرعی مشینری کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس ختم کردیے گئے ہیں۔
انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی اور تاجر برادری اور ایوانِ صنعت و تجارت پر زور دیا کہ وہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ایران کے تنازع کے حل کے بعد علاقائی تجارت میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ سکتا ہے۔