کاروبار اور معیشت

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غذائی تحفظ سمیت اہم سمریوں کی منظوری دے دی

  • سیلاب سے متاثرہ گندم کی نیلامی اور پاسکو ملازمین کے لیے 4.188 ارب روپے کا پیکیج منظور
شائع July 3, 2026 اپ ڈیٹ July 3, 2026 09:28am

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے گوداموں میں موجود 8,197.989 میٹرک ٹن سیلاب سے متاثرہ گندم کی نیلامی کی منظوری دے دی، جبکہ ادارے کو مرحلہ وار بند کرنے کے عمل کے تحت ملازمین کے لیے 4.188 ارب روپے کے سیورننس پیکیج کی بھی منظوری دی۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے غذائی تحفظ، سرکاری شعبے میں اصلاحات اور پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں سے متعلق پیش کی گئی سمریوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 8,197.989 میٹرک ٹن سیلاب سے متاثرہ پاسکو گندم کو کھلی اور شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔ اس عمل میں تیسرے فریق سے تصدیق بھی کرائی جائے گی تاکہ مالی نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے، خراب گندم کو شفاف انداز میں ٹھکانے لگایا جا سکے اور پاسکو کی تنظیمِ نو اور مرحلہ وار بندش کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 1972 سے پاک فوج اپنی گندم کی ضروریات وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ذریعے پوری کر رہی ہے۔

بریفنگ کے مطابق پاک فوج کو سالانہ 175,000 ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جس کی خریداری ہر سال مارچ اور اپریل میں کی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2020 تک فوج کی پوری ضرورت مقامی گندم (100 فیصد) سے پوری کی جاتی تھی، تاہم گزشتہ چار برسوں کے دوران یہ تناسب تبدیل ہو کر 50 فیصد مقامی اور 50 فیصد درآمدی گندم پر مشتمل ہو گیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایک اور سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاسکو کے اہل ملازمین کو معاوضے اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے 4.188 ارب روپے کے سیورننس پیکیج کی بھی منظوری دی، جو ادارے کو منظم انداز میں بند کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔

اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے مالیاتی استحکام اور گورننس پلان سے متعلق سمری پر بھی غور کیا گیا۔ منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ وہ آزاد مالیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ ایک مضبوط، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل مالیاتی استحکام کا منصوبہ تیار کیا جا سکے، جس سے یونیورسٹی کی طویل مدتی مالی پائیداری اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026