دنیا

آبنائے ہرمز بحران کے اثرات کمزور معیشتوں پر دیرپا رہ سکتے ہیں، اقوام متحدہ

  • توانائی کی منڈیوں کے مقابلے میں خوراک اور نقل و حمل کا نظام بحال ہونے میں زیادہ وقت لگے گا
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 02:16pm

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے عالمی توانائی کی منڈیوں کو فوری ریلیف ملا ہے، تاہم کمزور معیشتوں کو خوراک اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے طویل مدتی اثرات کا سامنا بدستور رہے گا۔

منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی منڈیوں کے مقابلے میں خوراک اور نقل و حمل کا نظام بحال ہونے میں زیادہ وقت لگے گا، کیونکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے جہاز رانی 100 روز سے زائد عرصے تک شدید متاثر رہی، جس کے باعث سپلائی چینز میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے معمول کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کے دوران یہ بحری راستہ عملی طور پر مفلوج ہو گیا تھا۔

اگرچہ امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 73 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے، لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایندھن، گیس اور کھاد کی بلند قیمتیں زرعی پیداوار، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔