سالانہ ترقیاتی منصوبہ 27-2026
- حکومتی سالانہ منصوبے میں مجموعی ملکی معیشت کے اہم اشاریوں کے لیے 27-2026 کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں
وفاقی حکومت کے پلاننگ کمیشن کی جانب سے سالانہ منصوبہ 27-2026 جاری کر دیا گیا ہے، جسے ”اڑان پاکستان ” کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں مجموعی ملکی معیشت کے اہم اشاریوں کے لیے 27-2026 کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) اور شعبہ جاتی ترقی
سرمایہ کاری اور بچت
افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح
برآمدات، درآمدات اور ترسیلاتِ زر
معاشی اہداف میں عام طور پر سب سے زیادہ توجہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر دی جاتی ہے۔ سالانہ منصوبے 26-2025 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اصل شرحِ نمو 3.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
البتہ سب سے زیادہ حیران کن بات 26-2025 کے دوران سالانہ منصوبے کے اہداف اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اندازوں کے درمیان شعبہ جاتی شرحِ نمو کا بڑا فرق ہے جیسا کہ نیچے دیے گئے جدول میں دکھایا گیا ہے :
یہ واقعی ایک حیرت انگیز اتفاق ہے کہ شعبہ جاتی شرحِ نمو میں اتنے بڑے تضادات کے باوجود مجموعی جی ڈی پی کی شرحِ نمو دونوں جگہ بالکل ایک جیسی یعنی 3.7 فیصد ہی نکلی ہے۔ انتظامی طور پر پی بی ایس وزارتِ منصوبہ بندی و ترقیات کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔
مالی سال 26-2025 کے دوران شعبہ جاتی کارکردگی کے اثرات آئندہ کی شعبہ جاتی شرحِ نمو اور مجموعی جی ڈی پی کے تخمینوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے سالانہ منصوبے کے پیش کردہ تخمینہ جات درج ذیل ہیں:
سالانہ منصوبے میں مالی سال 27-2026 کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 4.0 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو 26-2025 کی 3.7 فیصد شرحِ نمو سے معمولی سی پیش رفت ہے۔ اس میں زراعت کے شعبے کی ترقی میں 1.5 فیصد سے 3.6 فیصد تک کی بڑی چھلانگ تجویز کی گئی ہے لیکن کپاس کی کاشت کے بحران اور کاشتکاروں کو گندم کی منافع بخش قیمت نہ ملنے کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس ہدف کا حصول ناممکن نظر آتا ہے۔
دوسری جانب صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 26-2025 کے 5.6 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 27-2026 میں 4.5 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ یہ گراوٹ ممکنہ طور پر 26-2025 کے دوران درآمدات میں بڑے اضافے کے باعث آٹوموٹو (گاڑیوں کی) انڈسٹری میں آنے والے 60 فیصد اچھال کے بعد کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔
سالانہ منصوبے کے مطابق خدمات (سروسز) کے شعبے کی شرحِ نمو 3.1 فیصد سے بڑھ کر 4.1 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔ خدمات کے شعبے میں 26-2025 کے دوران پبلک ایڈمنسٹریشن اور ڈیفنس، تعلیم، صحت اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز کے ذیلی شعبوں میں تیز رفتار ترقی دیکھی گئی۔ تاہم روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے مثالی صورتحال یہ ہوتی کہ ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ اور ٹرانسپورٹ جیسے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے شعبے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتے۔
مجموعی طور پر 27-2026 کے لیے جی ڈی پی کی ترقی کا 4 فیصد ہدف ممکنہ طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے، بالخصوص اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال معمول پر آ جائے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بلا روک ٹوک شروع ہو جائے۔ مزید برآں ایران سے کم قیمت پر تیل اور گیس کی درآمدات کی بحالی بھی ملکی معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔
آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 26-2025 میں یہ 14.4 فیصد تھا۔ آخری بار سرمایہ کاری کی یہ سطح 22-2021 میں دیکھی گئی تھی۔ 27-2026 میں سرمایہ کاری کی اس بلند سطح کو حاصل کرنے کے لیے شرحِ سود میں نمایاں کمی لانا ہو گی۔
اس کے علاوہ ملک میں سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی تقسیم کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ طویل عرصے سے نجی اور سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) سے نکل کر رئیل اسٹیٹ کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ مالی سال 16-2015 میں مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ تھی، لیکن ایک دہائی بعد 26-2025 میں یہ رئیل اسٹیٹ میں ہونے والی سرمایہ کاری سے 44 فیصد کم ہو چکی ہے۔ وفاقی بجٹ 27-2026 میں غلط طور پر رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی مراعات کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
مالی سال 27-2026 کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے جولائی سے فروری 26-2025 تک مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد کی نچلی سطح پر مستحکم تھی، لیکن اس کے بعد سے مئی 2026 تک یہ اوسطاً 10 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مہنگائی کی شرح پر سب سے بڑا اثر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے بھاری اضافے کے باعث پڑا۔ تاہم حالیہ دنوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے قیمتوں کی سطح اور مہنگائی کی شرح کو نیچے لانے میں مدد ملنی چاہیے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم ہو جاتا ہے تو افراطِ زر کا متوقع ہدف (جو 8.5 فیصد تجویز کیا گیا ہے) حقیقت میں اس سے کچھ کم بھی رہ سکتا ہے۔ یہ صورتحال اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے لیے 27-2026 میں شرحِ سود میں کچھ کمی لانے کی راہ بھی ہموار کرے گی۔
بیلنس آف پمنٹس میں کرنٹ اکاؤنٹ کے تخمینے مشروط ہیں، بالخصوص برآمدات کی کارکردگی پر۔ مالی سال 26-2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، تاہم اب سالانہ منصوبہ 27-2026 میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ برآمدات میں تقریباً 9 فیصد کی بلند شرحِ نمو دیکھی جائے گی۔تاہم یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک برآمد کنندگان کو مارکیٹ پر مبنی شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کی پالیسی کے ذریعے سہولت نہ دی جائے۔ مئی 2026 تک رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) کی سطح 106.15 ہے، جو روپے کی قدر میں نمایاں حد تک زائد اوور ویلیوایشن کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو 27-2026 میں اس اہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔
مزید برآں کئی فیکٹریوں کی بندش کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت میں کچھ کمی کی اطلاعات بھی ہیں۔ بجٹ 27-2026 میں برآمداتی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مضبوط مالیاتی (فیسکل) مراعات دی جانی چاہیے تھیں۔
مالی سال 26-2025 میں درآمدات پہلے ہی 8 فیصد کی شرح سے بڑھ چکی ہیں۔ سالانہ منصوبے میں 27-2026 کے دوران درآمدات میں 5.6 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا انحصار ظاہر ہے تیل کی قیمتوں پر ہو گا۔
دوسری جانب ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینسز) میں 27-2026 کے دوران صرف 2.9 فیصد کی معمولی شرحِ نمو متوقع ہے، جو کہ ایک حقیقت پسندانہ تخمینہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔
مالی سال 27-2026 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 3.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ 26-2025 میں یہ صرف 1.1 ارب ڈالر تھا۔ اس ہدف کا دارومدار بھی مکمل طور پر آئندہ سال کی برآمدی کارکردگی پر ہو گا۔
مجموعی طور پر اگر ملکی معیشت میں استحکام کے ساتھ ساتھ معمولی ترقی بھی لانی ہے تو سالانہ منصوبہ 27-2026 کے اہداف کو حاصل کرنا ہو گا۔ تاہم جی ڈی پی کی ترقی کا 4 فیصد ہدف حاصل ہونے کے باوجود معیشت میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا خدشہ رہے گا۔ ’اڑان‘ منصوبے کے پرجوش اہداف کو آنے والے برسوں میں حاصل کرنا ناگزیر ہو گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026