آڈیٹر جنرل نے وزارت آبی وسائل میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کر دیا
- اے جی پی نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسائل ملک کے آبی اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے اپنی آڈٹ رپورٹ 2025-26 میں وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں میں مالی بے ضابطگیوں، کمزور گورننس اور منصوبہ بندی کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ مسائل ملک کے آبی اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ، واٹر ریسورسز نے مالی سال 2024-25 کے مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 7.02 ارب روپے سے زائد کی قابل وصول رقوم اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جن کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آڈٹ میں واپڈا، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)، فیڈرل فلڈ کمیشن (ایف ایف سی)، پاکستان کمشنر فار انڈس واٹرز (پی سی آئی ڈبلیو) اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ان اداروں نے مجموعی طور پر 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور 194.3 ارب روپے کی وصولیوں کا انتظام کیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ متعدد ترقیاتی منصوبے مناسب فزیبلٹی اسٹڈی، تفصیلی ڈیزائن اور منصوبہ بندی کے بغیر شروع کیے گئے، جس کے باعث منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافہ، زمین کے حصول کے مسائل اور قانونی تنازعات پیدا ہوئے۔ ناقص ڈیزائننگ کی وجہ سے بل آف کوانٹیٹیز (بی او کیو) میں غیر معمولی اضافہ اور متعدد ویری ایشن آرڈرز (وی اوز) جاری کیے گئے، جن میں بعض منصوبوں کی لاگت اصل معاہدے سے بھی تجاوز کر گئی۔
آڈٹ کے مطابق ایک منصوبے میں بی او کیو کی مقدار میں غیر معمولی اضافے کے باعث ایک ٹھیکیدار کو 10 ارب روپے سے زائد کی بلاجواز ادائیگیاں کی گئیں۔ اصل تخمینہ 4.58 ارب روپے تھا، تاہم 48ویں عبوری ادائیگی تک یہ رقم بڑھ کر 14.58 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ آڈیٹر جنرل نے قرار دیا کہ یہ صورتحال قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی ہدایات کے برعکس تفصیلی ڈیزائن مکمل کیے بغیر کام شروع کرنے کا نتیجہ تھی۔
رپورٹ میں ایک اور معاملے میں بغیر سامان کی فراہمی کے ایک ٹھیکیدار کو 4.63 ارب روپے کی ادائیگیوں کا بھی انکشاف کیا گیا، جسے آڈیٹر جنرل نے معاہدے کی خلاف ورزی اور ٹھیکیدار کو غیر ضروری فائدہ پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔
آڈٹ رپورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ، مہمند ڈیم، نائی گج ڈیم اور کرم تنگی ڈیم سمیت اہم منصوبوں میں شدید تاخیر کی بھی نشاندہی کی گئی۔ بعض منصوبوں کی پیش رفت مقررہ ہدف سے 55 فیصد تک کم رہی، جس کی وجوہات ناقص منصوبہ بندی، زمین کے حصول میں رکاوٹیں اور کمزور پراجیکٹ مینجمنٹ قرار دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں واپڈا کی نصب شدہ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 9,389 میگاواٹ پر برقرار رہی، جبکہ پن بجلی کی پیداوار 35,033 گیگاواٹ آور سے کم ہو کر 33,519 گیگاواٹ آور رہ گئی، جس سے قومی توانائی کے مجموعی نظام میں پن بجلی کا حصہ بھی کم ہوا۔
آڈیٹر جنرل نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کمی اور ناقص انتظامی نظام پاکستان کو سنگین آبی بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ رپورٹ میں قومی آبی پالیسی 2018 پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے اور کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو مطلوبہ پیش رفت رپورٹیں پیش نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
رپورٹ میں حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ منصوبہ بندی، فزیبلٹی اسٹڈیز، خریداری کے نظام، معاہدوں کے انتظام، اندرونی آڈٹ اور مالیاتی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے، بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور قومی آبی پالیسی پر فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملک کے آبی اور توانائی کے شعبے کو درپیش خطرات پر قابو پایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026