رائے

شمسی انقلاب اور اس کا تضاد

  • حکومتیں فوری ای پی آر قانون نافذ کریں، تاکہ کمپنیاں ناکارہ پینلز خود جمع اور ری سائیکل کرنے کی پابند ہوں
شائع June 28, 2026 اپ ڈیٹ June 28, 2026 02:20pm

بیس برس میں اگر کسی ایک ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی امید دی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹا ہے تو وہ شمسی توانائی (سولر انرجی) ہے۔ جو سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز کبھی عام آدمی کی پہنچ سے دور اور انتہائی مہنگے ہوا کرتے تھے وہ آج کرۂ ارض پر بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ انقلابی ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط ستون بننے کے لیے تیار ہے۔

عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 2010 میں بمشکل 40 گیگا واٹ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1.6 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہے، غیر مستحکم فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی مارکیٹوں پر انحصار گھٹاتی، گھروں کے بجلی کے بل کم کرتی اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی توانائی کی رسائی کو وسعت دیتی ہے۔ یہ ایک صاف ستھرے اور زیادہ غیر مرکزی توانائی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔

لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے وہ یہ کہ ہر سولر پینل کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ زیادہ تر فوٹو وولٹک پینل 25 سے 30 سال تک چلنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان سے لے کر چین، امریکہ اور دیگر ممالک تک میں بڑے پیمانے پر لگائی گئی پہلی نسل کے پینلز اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں۔ اس کے نتیجے میں کچرے کی ایک ایسی بڑی لہر ابھر رہی ہے جس کا متبادل توانائی کے شعبے کو اب تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔

انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں 78 سے 80 ملین میٹرک ٹن سولر پینل کا کچرا پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وزن ایفل ٹاور کے مجموعی وزن سے 8,000 گنا زیادہ یا سینکڑوں ہزاروں مکمل طور پر لوڈڈ ہوائی جہازوں کے برابر بنتا ہے۔ خطرہ خود سولر ٹیکنالوجی سے نہیں ہے بلکہ خطرہ اس بات سے ہے کہ جب ہم ان پینلز کی عمر ختم ہونے پر ان کے ٹھکانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔

اگر عمر پوری کر چکے ان پینلز کو عام کچرے کی طرح سمجھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اگرچہ پینل زیادہ تر شیشے اور ایلومینیم سے بنتے ہیں لیکن ان میں سیسہ، کیڈمیئم اور دیگر دھاتوں سمیت معمولی مقدار میں زہریلے مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا خاص طور پر کھلے ڈھیروں یا غیر منظم لینڈ فلز میں جو کہ ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں عام ہیں، ان مواد کو مٹی اور زیرِ زمین پانی میں شامل کر سکتا ہے، جس سے مقامی ماحول اور عوامی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پینلز کو کچرے میں پھینکنے کا مطلب انتہائی قیمتی وسائل کو ضائع کرنا بھی ہے۔ ایک عام سولر ماڈیول میں اعلیٰ معیار کا شیشہ، ایلومینیم، تانبا، چاندی اور سلیکان شامل ہوتے ہیں، یہ وہ مواد ہیں جنہیں نکالنے اور صاف کرنے کے لیے بھاری مقدار میں توانائی، پانی اور مائننگ (کان کنی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ضائع کرنا نہ صرف ماحولیاتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی غیر منطقی ہے۔

انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ ناکارہ سولر پینلز سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے مواد کی مالیت 2050 تک 15 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ خام مال کی یہ مقدار اسی سطح پر دوبارہ نئی کانیں کھودے بغیر تقریباً 2 ارب نئے سولر پینل بنانے کے لیے کافی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کل کا سولر کچرا کل کی کلین انرجی کی سپلائی چین بن سکتا ہے۔ اصل موقع یہیں پر موجود ہے۔

سولر تضاد (سولر پیراڈوکس) ناگزیر نہیں ہے۔ یہ پالیسی سازی کا ایک چیلنج ہے اور ایک ایسا چیلنج ہے جسے حل کرنا ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز سولر پینل کے 90 سے 95 فیصد مادی وزن کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ جدید ترین پلانٹس فریموں اور وائرنگ کو الگ کرنے کے لیے مکینیکل علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک پولیمر کو ہٹانے کے لیے تھرمل ٹریٹمنٹ اور چاندی و سیمی کنڈکٹر گریڈ سلیکان نکالنے کے لیے کیمیکل ریفائننگ کا استعمال کرتے ہیں۔ شیشے کو دوبارہ مینوفیکچرنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایلومینیم کو لامتناہی طور پر پگھلایا جا سکتا ہے، تانبا دوبارہ الیکٹریکل سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے اور سلیکان کو صاف کرکے دوبارہ فوٹو وولٹک کی تیاری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

مختلف ممالک اب درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ پیش رفت اب بھی ناہموار ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی سولر پینلز کو الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے فضلے کے ڈائریکٹو کے تحت درجہ بندی کر چکی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں اس کچرے کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کی قانونی پابندی ہے۔ فرانس پی وی سائیکل کے ذریعے سولر پینلز کو واپس لینے کا ایک جدید ترین نظام چلا رہا ہے۔ جاپان نے ابتدائی تنصیبات کے ناکارہ ہونے پر پینل ری سائیکلنگ کے لیے قومی روڈ میپ متعارف کرائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک میں اب بھی جامع قومی فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کو ٹھکانے لگانے کا عمل بکھرا ہوا، رضاکارانہ یا معاشی طور پر غیر پرکشش ہے۔

پالیسی کا یہ خلا بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک توانائی کی عدم سیکیورٹی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کے لیے بے مثال رفتار سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اپنی مدت پوری کرنے والے سولر ماڈیولز کے لیے ری سائیکلنگ کا بنیادی ڈھانچہ یہاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب پالیسی مداخلت کے بغیر متعدد ممالک ایک ماحولیاتی چیلنج، فوسل فیول پر انحصار کو دوسرے چیلنج یعنی کلین ٹیکنالوجی کے غیر منظم کچرے سے بدلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

اس کا حل پینلز کے لینڈ فل تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو فوری طور پر ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلیٹی، (ای پی آر) قانون نافذ کرنا چاہیے، جس کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے اپنی مدت پوری کرنے والے پینلز کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکل کرنے کے اخراجات خود اٹھانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ کار پینلز کو ٹھکانے لگانے کے اخراجات بلدیاتی اداروں اور صارفین سے ہٹا کر کمپنیوں پر ڈالے گا، جس سے کمپنیاں ایسے ماڈیولز ڈیزائن کرنے کی طرف مائل ہوں گی جنہیں الگ کرنا اور ان سے مواد دوبارہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہو۔

دوسرا یہ کہ پبلک انویسٹمنٹ (سرکاری سرمایہ کاری) کو علاقائی سطح پرری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کرنی چاہیے۔ یورپ اور مشرقی ایشیا سے باہر ری سائیکلنگ کے پلانٹس بہت کم اور مہنگے ہیں۔ اکثر پینل کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینکنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ سبسڈی، ٹیکس مراعات اور لینڈ فل پر پابندیوں کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔

تیسرا یہ کہ ہمیں مینوفیکچرنگ کے عمل میں ہی ڈیزائن فارسرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ڈیزائن) کو شامل کرنا ہوگا۔ اگلی نسل کے سولر پینلز کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ انہیں آسانی سے کھولا جا سکے، ان میں کم زہریلے گوند استعمال ہوں، فریم ماڈیولر ہوں، معیاری مواد استعمال کیا جائے اور اجزاء کی علیحدگی آسان ہو ، تاکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے اخراجات کم ہو سکیں۔

خریداری کی پالیسی بھی اس مانگ کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے حکومتوں، افادیت کے اداروں (یوٹیلیٹیز) اور بڑے خریداروں کو ان پینلز کو ترجیح دینی چاہیے جن میں تصدیق شدہ ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوا ہو اور جن کا لائف اینڈ ریکوری پلان شفاف ہو۔ کلین انرجی کی خریداری میں صرف کاربن اکاونٹنگ ہی نہیں بلکہ سرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کی صلاحیت) کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔

قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی کا مطلب صرف صاف بجلی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صنعتی نظاموں کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہے کہ ترقی کا انحصار وسائل نکالنے، انہیں ختم کرنے یا کچرے میں پھینکنے پر نہ رہے۔ شمسی توانائی اب بھی انسانیت کی سب سے بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے لیکن اگر ہم پینلز کی عمر ختم ہونے کے بعد کے اثرات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم اس ماحولیاتی وعدے کو ہی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیں گے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔

صاف توانائی کی منتقلی کا عمل یکطرفہ یا لکیری نہیں ہو سکتا، یعنی کان کنی کرو، بناؤ، لگاؤ اور پھینک دو۔ اسے لازمی طور پر سرکلر (دائرہ نما) ہونا چاہیے، یعنی ڈیزائن کرو، پیدا کرو، دوبارہ حاصل کرو اور پھر سے بناؤ۔ صرف اس دائرے کو مکمل کر کے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سورج کی طرف ہماری یہ دوڑ زمین پر کوئی مستقل داغ نہ چھوڑ جائے۔ شمسی توانائی اب بھی ماحولیات کے لیے ہمارا سب سے روشن حل ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم اس کے پیچھے چھوڑے جانے والے مواد کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم نظام تیار کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026