بحری جہاز پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے ٹریفک کی روانی سست
- واشنگٹن اور تہران میں جنگ بندی معاہدہ، ایران جنگ سے مہینوں کے تعطل کے بعد تیل خریداروں کو اسٹاک محفوظ ہونے کی امید
جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق تائیوان کے جہاز پر ایرانی فائرنگ کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد کم ہو گئی۔
اومان کی حدود میں ہونے والے اس حملے کے بعد اقوام متحدہ کی ایجنسی نے خلیج میں پھنسے جہازوں اور ملاحوں کو نکالنے کا پروگرام عارضی طور پر روک دیا ہے۔ تاہم واشنگٹن اور تہران میں جنگ بندی کے بعد تیل خریداروں کو سپلائی بحال ہونے کی امید ہے اور جمعہ کو خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد گر گئیں۔ سعودی عرب نے بھی خلیج سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔
تائیوان کی ایورگرین میرین نے تصدیق کی کہ اس کے جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ڈیٹا کے مطابق بدھ کو آبنائے سے 27 اور جمعرات کو 24 جہاز گزرے، لیکن جمعہ کو یہ تعداد کم ہو کر 13 رہ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بحری ٹریفک کی بحالی کی کوششوں کو دھچکا ہے اور صورتحال واضح کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے حتمی معاہدہ کتنا ضروری ہے۔ ابھی تک صورتحال معمول پر نہیں آ سکی ہے۔