پاکستان

خیبر پختونخوا نے ورلڈ بینک منصوبے سے مدین ہائیڈرو پاور منصوبہ نکال دیا

  • بھاری مالی خسارے اور فنڈنگ میں کمی کے باعث منصوبہ مالی طور پر غیر مؤثر ہو گیا تھا
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 09:38am

خیبر پختونخوا حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈویلپمنٹ منصوبے سے 215 میگاواٹ کے مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (ایم ایچ پی پی) کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیونکہ بھاری مالی خسارے اور فنڈنگ میں کمی کے باعث منصوبہ مالی طور پر غیر مؤثر ہو گیا تھا۔

ورلڈ بینک کی دستاویزات کے مطابق ابتدائی طور پر 727 ملین ڈالر کے اس منصوبے میں 452.5 ملین ڈالر کا مالی خلا پیدا ہوا، جس میں 267.5 ملین ڈالر لاگت میں اضافے اور 185 ملین ڈالر کی وہ کمرشل فنانسنگ شامل ہے جو حاصل ہونا ممکن نہیں رہی۔

ورلڈ بینک نے اصولی طور پر منصوبے کی ازسرِ نو تشکیل (ری اسٹرکچرنگ) پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے تحت مدین منصوبے کی فنڈنگ ختم کر دی جائے گی، جبکہ منصوبے کی تکمیل کی مدت میں تین سال کی توسیع، مالی ڈھانچے میں تبدیلی اور عملدرآمد کے شیڈول پر نظرثانی کی جائے گی۔

یہ منصوبہ جنوری 2021 سے نافذ العمل ہے اور اس میں ابتدا میں 88 میگاواٹ کے گبرال کالام ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، 215 میگاواٹ مدین منصوبہ اور شمسی توانائی کے منصوبے شامل تھے۔ اب نئی حکمت عملی کے تحت مدین منصوبے سے متعلق تمام سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی، جبکہ گبرال کالام ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، شمسی توانائی کے اقدامات اور تکنیکی معاونت کے پروگرام جاری رہیں گے۔

دستاویزات کے مطابق پانچ سال گزرنے کے باوجود منصوبے پر صرف 4 فیصد فنڈز خرچ ہو سکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خریداری کے عمل میں تاخیر، انتظامی رکاوٹیں اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیاں ہیں۔

ری اسٹرکچرنگ کے بعد مجموعی منصوبے کا حجم 727 ملین ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 480.6 ملین ڈالر رہ جائے گا۔ ورلڈ بینک کے 450 ملین ڈالر کے فنڈز میں سے 277.7 ملین ڈالر گبرال کالام منصوبے، 25 ملین ڈالر ادارہ جاتی اصلاحات اور باقی رقم ممکنہ نئی قابلِ تجدید توانائی اسکیموں کے لیے مختص کی جائے گی۔

نئے ڈھانچے کے تحت ورلڈ بینک کا حصہ بڑھ کر 93.7 فیصد تک پہنچ جائے گا جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ 6.3 فیصد رہ جائے گا، اور کمرشل قرضے کا عنصر مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ 30 نومبر 2030 مقرر کی گئی ہے۔ ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے حوالے سے مدین منصوبے کے لیے جاری زمین کے حصول کے عمل کو ختم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، تاکہ زمین مالکان کے حقوق برقرار رہیں۔

ورلڈ بینک نے واضح کیا ہے کہ گبرال کالام منصوبہ بدستور ماحولیاتی کیٹگری اے کے تحت جاری رہے گا، جس میں آبادکاری، حیاتیاتی تنوع اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے منصوبے شامل ہوں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق مجموعی طور پر منصوبہ پاکستان کی صاف توانائی پالیسی اور قابلِ تجدید توانائی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، تاہم اس کے لیے تکنیکی، مالی اور انتظامی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026