سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران امن مذاکرات کا آغاز، آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز
- امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں
امریکہ اور ایران کے درمیان چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اتوار کی صبح سوئس ریزورٹ میں اعلیٰ سطح کے امن مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ فریقین کے مابین پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔
تاہم آبنائے ہرمز کی بندش اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات میں جوہری معاملے اور لبنان جنگ بندی پر پیش رفت ہوگی۔ دوسری طرف اسرائیل نے اس معاہدے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے لبنانی حدود سے پیچھے ہٹنے کی تردید کی ہے، جس سے خطے میں تناؤ تاحال برقرار ہے۔