فنانس بل میں پارلیمانی سفارشات شامل کی جائیں گی، وزیر خزانہ
- بجٹ دستاویزات میں تضادات سے متعلق دعوے دراصل اعدادوشمار کی غلط تشریح کا نتیجہ ہے ، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں نے بجٹ تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کردی ہیں جن میں سے کچھ کو فنانس بل 2026 میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ دستاویزات میں تضادات سے متعلق دعوے دراصل اعدادوشمار کی غلط تشریح کا نتیجہ ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا اختتام کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعدادوشمار سمیت اہم معاشی اشاریے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے تھے جس میں صوبوں، وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہیں، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ اراکین نے بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سے واضح رائے موصول ہوئی ہے کہ یہ ایک مثبت اور ترقی دوست بجٹ ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران دیکھی گئی پائیدار ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے بجٹ بحث میں حصہ لینے پر اراکینِ پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا جن میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر شامل ہیں۔
حکومت کی معاشی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی سرگرمیاں کامیابی کے ساتھ جاری ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، برآمدات میں اضافے کا رجحان ہے اور آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران 14 ارب ڈالر کی اضافی آمدنی پیدا کی ہے جسے انہوں نے 1988 کے بعد سب سے زیادہ اضافہ قرار دیا۔
زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے کسانوں کے لیے 300 ارب روپے کے بلا سود قرضے مختص کیے ہیں جس سے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار کاشتکاروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ بجٹ میں مقرر کردہ معاشی سمت نے معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔