دنیا

بھارت میں بنگلہ دیشی مشیر کی تفتیش، ڈھاکہ کا دہلی سے شدید احتجاج

  • بنگلہ دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے اس واقعے کو غیر متوقع اور افسوسناک قرار دیا ہے
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 01:07pm

بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں تعینات ایک اعلیٰ بھارتی سفارتکار کو طلب کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جس کی وجہ وزیراعظم طارق رحمان کے ایک مشیر کے ساتھ مبینہ طور پر دہلی ایئرپورٹ پر کیے گئے سلوک پر شدید اعتراض ہے۔ یہ واقعہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک نئے سفارتی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے اس واقعے کو غیر متوقع اور افسوسناک قرار دیا، جبکہ ڈھاکہ نے پیر کی رات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پون بدھے کو طلب کر کے اپنے تحفظات باضابطہ طور پر پیش کیے۔

حکام کے مطابق حکومت کے اسٹریٹیجی ایڈوائزر زاہد الرحمان جب ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے تو انہیں ایئرپورٹ پر روکا گیا، جہاں ان سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد انہیں آگے جانے کی اجازت دی گئی۔

بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی حساس مرحلے میں ہیں۔

اگرچہ اس سال طارق رحمان کی انتخابی کامیابی کے بعد تعلقات میں بہتری آئی تھی، لیکن 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد کشیدگی برقرار ہے، جس میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور وہ اس وقت بھی بھارت میں مقیم ہیں، جبکہ ڈھاکہ ان کی حوالگی کا مسلسل مطالبہ کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر بھی اختلافات موجود ہیں۔ بنگلہ دیش نے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ وہ طے شدہ ریپٹری ایشن طریقہ کار کے بغیر سرحد پار پش اِن کے ذریعے غیر دستاویزی افراد بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈھاکہ نے کہا ہے کہ بارڈر گارڈز نے حالیہ دنوں میں کئی ایسی کوششیں ناکام بنائی ہیں، اور یہ معاملہ گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں ہونے والی بنگلہ دیش بارڈر گارڈ اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے مذاکرات میں بھی اٹھایا گیا۔

اگرچہ دونوں فریقین نے ان مذاکرات میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی گشت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم مہاجرین کا مسئلہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔