پاکستان

گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولر پروجیکٹ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، وزیراعظم

  • شہباز شریف کی منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز اور اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 11:51am

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر پاور سپلائی منصوبے کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔

اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے گلگت بلتستان میں حکومت کے سولر انرجی منصوبے پر بریفنگ بھی دی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گلگت اور دیامر ڈویژنز میں سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگاواٹ کا سولر منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

جبکہ بلتستان ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کے سولرائزیشن منصوبے کو اکتوبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

جبکہ بلتستان ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کے سولرائزیشن کا منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید برآں اجلاس کو بتایا گیا کہ گلگت، اسکردو اور چلاس میں گھرانوں کے لیے 82 میگاواٹ کے شمسی توانائی (سولر انرجی) کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

اس موقع پر وزیرِاعظم نے منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے منصوبے کے تمام مراحل پر آزادانہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (جانچ پڑتال) کو یقینی بنایا جائے۔