کاروبار اور معیشت

مہنگائی آئندہ چند ماہ تک دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ہے، اسٹیٹ بینک

  • جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 09:30am

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی دو ہندسوں (ڈبل ڈیجٹ) میں برقرار رہ سکتی ہے، جس کے بعد بتدریج اس میں کمی کا امکان ہے۔

مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 10.9 فیصد اور مئی میں سالانہ بنیادوں پر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث سپلائی چین میں خلل شامل ہے۔

جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق کم بیس ایفیکٹ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے مہنگائی میں براہ راست اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ مقامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تنازع کے باعث بنیادی مہنگائی اپریل میں 8.2 فیصد اور مئی میں 8.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ گندم اور اس سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران غذائی مہنگائی میں نمایاں اضافے کا سبب بنا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی آئندہ چند ماہ تک ڈبل ڈیجٹ میں رہ سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ اگلے مالی سال کے اختتام تک اوسط مہنگائی 8.2 فیصد تک آ سکتی ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس معاشی منظرنامے کو متعدد خطرات لاحق ہیں، جن میں جغرافیائی سیاسی حالات، عالمی قیمتوں کا مقامی ایندھن کی قیمتوں پر اثر، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیاں، مالیاتی خسارے میں اضافہ، اور موسمیاتی عوامل کے باعث غذائی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔

اقتصادی سروے میں بھی کہا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی بڑھتی قیمتیں پیداواری اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھا کر مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھ سکتی ہیں، جس سے صنعتی شعبے کی لاگت اور بیرونی شعبے کے استحکام کو چیلنجز لاحق ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں مہنگائی نسبتاً مستحکم رہی، تاہم تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بیرونی جھٹکوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس سے معیشت کی کمزوری بڑھ گئی ہے اور پالیسی میں محتاط اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026