کاروبار اور معیشت

سینیٹ کمیٹی کی صرف پی آئی اے کو سیلز ٹیکس چھوٹ دینے کی مخالفت

  • کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ امتیازی سلوک سے بچنے کے لیے استثنیٰ کی فہرست میں تمام ایئرلائنز کے نام شامل کیے جائیں۔
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 09:20am

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اتوار کے روز اس تجویز کی سخت مخالفت کی جس کے تحت صرف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کو طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ امتیازی سلوک سے بچنے کے لیے استثنیٰ کی فہرست میں تمام ایئرلائنز کے نام شامل کیے جائیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل سے متعلق سفارشات کا جائزہ لیا اور سیلز ٹیکس ایکٹ اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل کیا۔

کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن اور ایف بی آر کے فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام سے متعلق تجاویز کی بھی منظوری دی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے وزیر خزانہ، ٹیکس پالیسی یونٹ اور ایف بی آر کو سختی سے ہدایت کی کہ ایوی ایشن صنعت کے اندر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر امتیازی سلوک ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس ٹیکس ریلیف سے پوری فضائی صنعت کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صرف ایک ایئرلائن کو یہ سہولت دی گئی تو قانونی چارہ جوئی ہوگی اور دیگر ایئرلائنز عدالتوں سے رجوع کریں گی۔ اس لیے حکومت کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے استثنیٰ شیڈول میں تمام دیگر ایئرلائنز کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ استثنیٰ پی آئی اے کی نجکاری کے تناظر میں دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ ایئرلائن کی جانب سے نئے طیاروں کی درآمد پر سیلز ٹیکس چھوٹ دینا نجکاری کے عمل کا حصہ ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ تمام ایئرلائنز کے نام سیلز ٹیکس استثنیٰ شیڈول میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف سے منظوری لینا ہوگی۔

کمیٹی نے اس سفارش سے اتفاق کرتے ہوئے تجویز میں ترمیم کی اور استثنیٰ کا دائرہ صرف پی آئی اے سی ایل تک محدود رکھنے کے بجائے تمام اہل ایئرلائنز تک وسیع کرنے کی منظوری دی۔

فنانس کمیٹی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد کی منظوری بھی دی، تاہم حکومت سے یہ تفصیلات طلب کیں کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کتنی اور کس نوعیت کی گاڑیوں کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں مزید اشیا شامل کرنے کی منظوری بھی دی، جن پر سیلز ٹیکس پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔

کمیٹی نے ضبط شدہ اشیا کی نیلامی سے متعلق ترامیم کی بھی منظوری دی۔ نئے فریم ورک کے تحت ای-نیلامی کی اجازت ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026