معاشی ترقی کیلئے مراعات متعارف کرانا ہوں گی، وزیراعظم شہباز شریف
- قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ پاکستان کو جی ڈی پی میں تیزی لانے اور معاشی استحکام سے آگے بڑھنے کے لیے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔
کئی بار کی تاخیر کے بعد بالآخر قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ مرحلے میں روزگار کے مواقع، مقامی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کیلئے فوری اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک کا استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع اور پیداوار کو بہتر بنانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ جاری جغرافیائی و سیاسی بحران کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ بجٹ کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے بغیر ہم اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے، اب ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
اس وقت ہمارا سب سے بڑا چیلنج اپنے دفاع کو مضبوط بنانا اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی جلد ختم کردی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے حصول اور ملک کی جی ڈی پی میں تیزی لانے کے لیے ایسی مراعات متعارف کرانا ناگزیر ہے جو برآمدات میں اضافے ، مینوفیکچرنگ کی بحالی اور معیشت کی تبدیلی کا باعث بنیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کونسل کو یہ بھی بتایا کہ منگل کو ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی، انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بے حد سراہا۔
قومی اقتصادی کونسل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاشی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا آئینی فورم ہے۔
اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کی۔
قبل ازیں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جو اصل میں 22 مئی کیلئے طے کیا گیا تھا، ملتوی کر کے 3 جون کے لیے دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا، تاہم اسے ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا اور 8 جون 2026 کے لیے دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا۔
اس سے قبل بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ کو 10 جون سے ملتوی کرکے 12 جون کو پیش کرنے کا امکان ہے، اس مجوزہ تبدیلی پر حتمی فیصلہ ایک یا دو دن میں متوقع ہے۔