پاکستان

امن کو مزید موقع دیں، امریکہ ایران تناؤ کے درمیان پاکستان کی اپیل

  • پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مقصد دشمنی اور محاذ آرائی کے تسلسل کو توڑنا، قیمتی جانیں بچانا اور سفارت کاری کو ایک موقع فراہم کرنا ہے، عاصم افتخار احمد
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 02:06pm

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جہاں دوبارہ شروع ہونے والے تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اس تشویش کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے عدم پھیلائو سے متعلق سلامتی کونسل کی بریفنگ کے دوران کیا۔

سفیر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کی حالیہ لہر اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ایک کمزور جنگ بندی سے کس طرح کے خطرات وابستہ ہیں اور اس کے کتنے ناقابلِ برداشت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی و بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کی خاطر تشدد اور عدمِ استحکام کے اس تسلسل کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

عاصم افتخار نے تمام حل طلب مسائل، بشمول ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن ذرائع، سفارتی روابط اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مقصد دشمنی اور محاذ آرائی کے تسلسل کو توڑنا، قیمتی جانیں بچانا اور سفارت کاری کو ایک موقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کو اجاگر کرتا ہے جو جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے اصولی اور مذاکرات پر مبنی سفارت کاری کے لیے ہماری ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے خلوص اور محنت سے کام کررہے ہیں اور خاص طور پر جب حتمی مقصد قریب آ چکا ہے تو ہم تمام فریقین سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔

سفیر نے فریقین پر زور دیا کہ وہ امن اور سفارتکاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اس میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس پر عالمی برادری نے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

انہوں نے دونوں فریقین (امریکہ اور ایران) کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرنے، جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے اور اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کرنے کو بھی سراہا۔