آئی سی سی نے قذافی اسٹیڈیم اور لارڈز کی پچز کو "غیر تسلی بخش" قرار دے دیا
- دونوں اسٹیڈیمز پر ڈی میرٹ پوائنٹس عائد کر دیے گئے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل اور انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی پچز کو ”غیر تسلی بخش“ قرار دیتے ہوئے، اپنے پچ اینڈ آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت دونوں وینیوز کو ایک ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔
جاری کردہ ایک میڈیا ریلیز میں منگل کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بتایا کہ میچ ریفریز گریم لا بروئے اور اینڈی پائکرافٹ نے اپنی رپورٹس میں ان خدشات کی نشاندہی کی ہے جو میچ آفیشلز اور ٹیم کپتانوں کی جانب سے کھیل کی سطح (پچ) کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی پچ پر تبصرہ کرتے ہوئے گریم لا بروئے نے کہا کہ پورے میچ کے دوران وکٹ “سلو اور لو” رہی، جس کے باعث رنز بنانا مشکل ہو گیا اور یہ ون ڈے انٹرنیشنل کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔
انہوں نے کہا:
“پچ سست اور نیچی تھی جس نے رنز بنانا انتہائی مشکل بنا دیا۔ یہ ون ڈے میچ کے لیے موزوں نہیں تھی کیونکہ بیٹرز کو سیٹ ہونے میں زیادہ وقت لگا۔ اس نے ابتدا ہی سے اسپنرز کو مدد دی اور پورے میچ میں یہی صورتحال رہی۔”
دوسری جانب لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کی پچ پر تبصرہ کرتے ہوئے اینڈی پائکرافٹ نے کہا کہ یہ سطح بولرز کو ضرورت سے زیادہ مدد فراہم کر رہی تھی، جس سے بیٹ اور بال کے درمیان عدم توازن پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ”پورے ٹیسٹ میں سیون موومنٹ حد سے زیادہ رہی اور کئی مواقع پر گیند بہت نیچی رہی۔ باؤنس غیر مستقل تھا، پہلے دن 16 وکٹیں گریں اور دوسرے دن 17۔ مجموعی طور پر یہ پچ بیٹنگ کے مقابلے میں بولنگ کے حق میں حد سے زیادہ جھکی ہوئی تھی۔“
آئی سی سی نے یہ رپورٹس بالترتیب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو ارسال کر دی ہیں، اور دونوں بورڈز کو 14 روز کے اندر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق دونوں وینیوز کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈیمیرٹ پوائنٹ ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔
آئی سی سی کے پچ اینڈ آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت ”غیر تسلی بخش“ درجہ ملنے پر ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا جاتا ہے، جبکہ ”ناقابلِ کھیل“ قرار دیے جانے پر تین ڈیمیرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔
ڈی میرٹ پوائنٹس پانچ سال تک مؤثر رہتے ہیں۔ اگر کسی وینیو کے چھ ڈیمیرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو اسے 12 ماہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے روک دیا جاتا ہے، جبکہ 12 پوائنٹس کی صورت میں یہ پابندی 24 ماہ تک ہو جاتی ہے۔