رائے

ترقی کے بغیر استحکام پر مبنی ایک اور بجٹ

  • مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 10:07am

صنعتکاروں، بینکوں، تنخواہ دار طبقے اور وسیع تر عوام میں اس بات کی بہت کم امید ہے کہ آئندہ بجٹ کوئی مثبت سرپرائز دے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہی پرانی صورتحال برقرار رہے گی، اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے مزید دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔

مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے، تاہم آئی ایم ایف اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اس نام نہاد رضاکارانہ طور پر 1.7 کھرب روپے کی حوالگی کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ کوئی بھی آئندہ بجٹ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

یہ عملاً انہی پالیسی سازوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پانچواں بجٹ ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے حیرت ہوئی یا مزید وقت درکار ہے۔ سوچ میں تسلسل ضرور ہے، لیکن یہ سوچ محض استحکام سے آگے نہیں بڑھی۔ توجہ اب بھی آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ملکی رپورٹ خود بجٹ تقریر سے بہتر پیشگی خاکہ فراہم کر سکتی ہے۔ مجموعی مالیاتی فریم ورک پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؛ اسلام آباد کا کام زیادہ تر خالی جگہیں پر کرنا رہ گیا ہے۔

اصل بڑا چیلنج مالی سال 2027 کے لیے 15.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ہے، جو آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026 کی ممکنہ وصولیوں سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، آئندہ سال کے ایف بی آر اہداف محض اشارتی نہیں بلکہ مقداری کارکردگی کے اہداف ہیں۔ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو حکومت کو چھوٹ لینا پڑے گی۔ وہ صرف ترقیاتی اخراجات کم کر کے یا پیٹرولیم لیوی بڑھا کر خلا پورا نہیں کر سکے گی۔ اور اگر فرق پیدا ہوا تو منی بجٹ کا امکان موجود رہے گا۔

ریٹیل ٹیکس اسکیم اصلاح سے زیادہ ایک ڈھونگ ہے۔ آئی ایم ایف اس سے ناخوش ہے کیونکہ یہ کم رقم کی ادائیگی کے ذریعے ریٹیلرز کو عملاً بری الذمہ کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ بہرحال، اس اسکیم سے کسی بڑی آمدنی کی توقع نہیں کی جا رہی۔

اس طرح کوئی بھی قابلِ ذکر ریلیف کی توقع نہیں کر رہا۔ پورے سال حکومت اور آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ اشارہ دیا کہ بہتر دن آنے والے ہیں اور ٹیکس کی شرحیں کم ہوں گی۔ لیکن آج زیادہ تر کاروبار ایک اور مشکل سال کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے بار بار اعلان کے باوجود آئی ایم ایف کا عملہ مطمئن نہیں ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ کفایت شعاری کے لیے بھی کم عزم ہے اور ساختی اصلاحات میں بھی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔

پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر برقرار ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت پیٹرول کی قیمت کا تقریباً نصف لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 14 فیصد ہے۔ اگر لیوی جی ایس ٹی کی جگہ لینے کے لیے تھی تاکہ آمدنی صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنی پڑے، تو یہ 18 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر عملی طور پر یہ بحث ختم ہو چکی ہے۔

عوام کے لیے بہترین ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ لیوی میں مزید اضافہ نہ ہو، جی ایس ٹی 19 فیصد تک نہ جائے، اور کوئی بڑا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں، اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں معمولی کمی دے سکتی ہے۔

اشیا برآمد کرنے والوں کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جس میں آمدنی پر اضافی 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے جو پہلے ہی موجود 1 فیصد ٹیکس کے اوپر لگتا ہے۔ اس سے کیش فلو بہتر ہوگا۔ دوسری جانب خدمات برآمد کرنے والا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیاں، فری لانس آمدنی پر زیادہ ٹیکس کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہوتا ہے تو پالیسی سازوں کو آئی ٹی ایکسپورٹس کو دی جانے والی مراعات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب صوبے اخراجات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ خیبر سے کراچی تک ایک عوامی تعلقات کی مشق بن چکی ہے۔ پنجاب اکیلا نہیں، ہر صوبہ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ زور اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور نمائش پر ہے۔ پلاننگ کمیشن اب بھی روایتی پی ایس ڈی پی ماڈل کو وسعت دینے کی بات کر رہا ہے۔ مگر مالی گنجائش محدود ہے۔ اسی لیے اصل تنازع وفاق کی جانب سے صوبوں کے 1.7 کھرب روپے کے مجوزہ بچت کے استعمال پر ہے جس سے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ بندوبست ایک مرتبہ کا ہے یا مستقل۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اتحادی شراکت دار اس سے خوش نہیں ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس حقیقی ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کا ماحول بھی بدستور جمود کا شکار رہے گا۔ ایف بی آر کی بنیادی توجہ نفاذ پر رہے گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ سیاسی عزم موجود نہیں، حالانکہ متعلقہ ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے۔ نتیجتاً وہی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک ریاست ٹیکس کا بوجھ اسی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ڈالتی رہے گی، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کرے گی، تب تک استحکام خود ایک مقصد رہے گا، ترقی کی طرف پل نہیں بن سکے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026