سیاست، مسلسل جدوجہد اور خدمتِ خلق : مریم نواز کا بطور رہنما ابھرنے کا سفر
- وزیر اعلیٰ کے دو سالہ دور میں پیرا فورس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ جیسے انقلابی اقدامات نے پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کو کچل کر امن و امان کا نقشہ بدل دیا ہے
سیاست بنیادی طور پر جدوجہد، استقامت اور عوامی خدمت کا نام ہے مگر ایک مخصوص طبقے نے اسے محض پروپیگنڈے، ذاتی حملوں اور کردار کشی کا اکھاڑا بنا دیا ہے۔ اس سیاسی گراوٹ کے برعکس سچے اور باوقار رہنما تخریب کے بجائے تعمیری تنقید پر یقین رکھتے ہیں اور آزمائش کی گھڑی میں پارٹی اصولوں کی خاطر چٹان کی طرح مضبوط کھڑے رہتے ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ سیاست کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہی بلکہ یہ چیلنجز اور کڑی آزمائشوں کا راستہ ہے، جہاں صرف ثابت قدم رہنے والے ہی تاریخ رقم کرتے اور کمزور دل والے ہمیشہ کے لیے منظرنامے سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کی واضح مثال پی ٹی آئی کا وہ دورِ حکومت ہے جب مسلم لیگ (ن) پر سیاسی زمین اس حد تک تنگ کر دی گئی جس کا موازنہ صرف مشرف دور کے مظالم سے ہی ممکن ہے مگر اس بدترین سیاسی دباؤ اور انتقام کے باوجود چند مفاد پرستوں کے سوا پارٹی کے مخلص ارکان چٹان کی طرح نواز شریف کے نظریے کے ساتھ کھڑے رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ثابت کیا کہ وہ محض ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نچلی سطح پر مضبوط جڑیں رکھنے والی ایک ایسی عوامی تحریک ہے جسے ریاستی جبر سے نہ تو توڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی مٹایا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں جب مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے لے کر عام کارکن تک بدترین سیاسی انتقام کی چکی میں پس رہے تھے تو مریم نواز ایک کلیدی قوت بن کر ابھریں اور پارٹی کو سیاسی تنہائی کے گھپ اندھیروں سے نکال کر دوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔ مخالفین نے انہیں ایک کمزور سیاسی مہرہ سمجھ کر ڈرانے، دھمکانے اور سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے مگر وہ ہر وار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئیں۔ اپنے والد نواز شریف کے لیے کمزوری بننے کے بجائے وہ ان کا سب سے مضبوط بازو ثابت ہوئیں اور حق و صداقت کی پاداش میں دو بار جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ سابق وزیر اعظم کی بیٹی ہونے کے ناطے بی کلاس جیل کی مستحق ہونے کے باوجود انہوں نے کسی بھی قسم کے خصوصی سلوک یا مراعات کو ٹھکرا کر عام قیدیوں کی طرح وقت کاٹا اور ثابت کر دیا کہ ان کا عزم کسی بھی سیاسی جبر سے کہیں زیادہ بلند ہے۔
سال 2014 سے مریم نواز کو مستقل بنیادوں پر بدترین کردار کشی کی مہمات کا نشانہ بنایا جاتا رہا، مگر یہ تمام تر اوچھے ہتھکنڈے ان کے عزم کی چٹان کو توڑنے میں ناکام رہے۔ ان منفی مہمات نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا، جس کے بعد وہ ایک زیادہ پرعزم اور بااثر سیاسی رہنما کے طور پر ابھریں۔ آج انہیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس مختصر مدت میں ان کی کارکردگی سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ کو مات دے چکی ہے۔ تجاوزات کے خاتمے اور شہری نظم و نسق کے لیے پیرا فورس کا قیام ہو یا منظم جرائم اور منشیات فروشی کی جڑیں کاٹنے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی تشکیل ان کے ان انقلابی اقدامات نے صوبے میں امن و امان کا پورا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج پنجاب میں مجرمانہ عناصر، اسمگلر اور عادی بدمعاش قانون کی بے لچک اور سخت ترین گرفت میں آ چکے ہیں۔
مریم نواز کے سیاسی سفر کا سب سے درخشاں پہلو خواتین کی حفاظت اور ان کے وقار کو یقینی بنانا ہے، جنہوں نے یہ دوٹوک عہد کیا کہ پنجاب کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین ان کے اسی پختہ عزم کو صوبے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی اور عوامی تحفظ کی بحالی کا بنیادی سبب قرار دیتے ہیں۔ جو نکتہ چین کبھی ملک کے سب سے بڑے صوبے کو چلانے کی ان کی اہلیت پر سوال اٹھاتے تھے آج وہ خود ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہو چکے ہیں، یہاں تک کہ دیگر صوبے بھی اب پنجاب کے گورننس ماڈل اور عوامی بہبود کے منصوبوں کی تقلید پر مجبور ہیں۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے جیسے مشرف کے آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) سخت ترین بحران کا شکار تھی تو بیگم کلثوم نواز نے جراتمندی سے پارٹی کی کمان سنبھالی بالکل اسی طرح جب پی ٹی آئی دور میں آزاد جموں و کشمیر کے اندر مسلم لیگ (ن) کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور کئی رہنماؤں نے مصلحت پسندی یا خاموشی اختیار کر لی تو اس نازک موڑ پر نواز شریف نے خطے میں پارٹی کی باگ ڈور اپنے انتہائی وفادار اور مخلص کارکن شاہ غلام قادر کے سپرد کرکے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔
مسلسل سیاسی سرگرمیوں اور انتھک انتخابی مہم کے ذریعے شاہ غلام قادر نے پارٹی میں نئی روح پھونکی اور پورے آزاد کشمیر میں اس کی مقبولیت کو بحال کیا۔ آج اس خطے میں مسلم لیگ (ن) کو جو نئی عوامی طاقت حاصل ہے وہ کافی حد تک ان کی کوششوں اور قیادت کی مرہونِ منت ہے۔
آزاد کشمیر کے اگلے انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی سیاسی تیاریاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔ نواز شریف نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والے ترجیح اور اعتراف کے مستحق ہیں، جبکہ مصیبت کے لمحات میں پارٹی چھوڑنے والوں کو واپسی پر کسی ترجیحی سلوک کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ شاہ غلام قادر کی غیر متزلزل وفاداری، طویل المدتی عزم اور آزاد کشمیر میں پارٹی کو مضبوط کرنے میں ان کے شاندار کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کارکنوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے لیے زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔ ایسا فیصلہ نہ صرف ان کی لگن کا اعتراف ہوگا بلکہ اس سے نچلی سطح کے کارکنوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے اور پارٹی کا یہ امیج بھی مضبوط ہوگا کہ وہ وفاداری اور استقامت کا صلہ دیتی ہے۔
حال ہی میں مریم نواز کے ایک بڑے سرجیکل آپریشن کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ہم ان کی مکمل اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ جلد ہی اپنی سرکاری ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گی اور اسی توانائی، عزم اور وژن کے ساتھ پنجاب کے عوام کی خدمت کے مشن کو جاری رکھیں گی جس نے ان کے قیادت کے سفر کو منفرد بنایا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026