29 مئی کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا بجٹ اجلاس 3 جون کو طلب کیا تھا تاکہ 5 جون کو بجٹ پیش کیا جا سکے تاہم مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما طاہرہ اورنگزیب کے مطابق بجٹ پیش کرنے کی تاریخ مؤخر کرکے 10 جون کردی گئی ہے، اگرچہ پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونا ابھی باقی ہے۔
اس تاخیر یا التوا نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم کے حالیہ ہفتہ بھر کے دورۂ پاکستان (13 سے 20 مئی) کے اختتام پر جاری ہونے والی پریس ریلیز کو مدنظر رکھتے ہوئے، جس میں واضح طور پر یہ کہا گیا تھا کہ اس دورے کا محور حالیہ معاشی پیش رفت، اصلاحات پر عمل درآمد اور مالیاتی سال 2027 کے بجٹ کی حکمتِ عملی تھا۔
یہ صورتحال 15 مئی کو جاری کیے گئے تفصیلی دستاویزات کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے، جو جاری آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے سے متعلق تھے۔ ان دستاویزات میں حالیہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پاکستان پر اثرات اب تک قابو میں رہے ہیں۔ دستاویزات میں اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر ایندھن اور توانائی کے نرخوں کو لاگت کے مطابق برقرار رکھنے کی ضرورت پر تاکہ ناقابل برداشت سبسڈی اور مالی بوجھ سے بچا جاسکے جب کہ کمزور طبقوں کو ہدفی معاونت فراہم کرنے اور توانائی کے بلند اخراجات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی، اسی طرح بجٹ حکمتِ عملی کے حوالے سے یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ مجوزہ بجٹ اخراجات اور آمدنی کے ذرائع پر بات چیت اور اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔
2019 کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی پروگرام کے بعد سے جو بات بالکل واضح اور عیاں ہے اور پاکستان نے اس کے بعد سے مزید 3 پروگرام حاصل کیے ہیں، جن میں خاص طور پر 2023 کا نو ماہ کا اسٹین بائی ارینجمنٹ، 2024 کا ای ایف ایف اور 2025 کا آر ایس ایف شامل ہیں وہ یہ ہے کہ نہ تو آئی ایم ایف اور نہ ہی دوست ممالک (سعودی عرب اور چین) ان سخت اور فوری طور پر نافذ العمل شرائط کو بتدریج ختم کرنے (فیز آؤٹ کرنے) کے حق میں ہیں جن پر فنڈ اصرار کررہا ہے اور اس کی وجہ ماضی کے پروگراموں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے ہمارا انتہائی مایوس کن اور خراب ٹریک ریکارڈ ہے۔
اس تناظر میں اس تاخیر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی اس شکایت سے جوڑا جارہا ہے کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے مختص فنڈز درکار/طلبی سطح سے تقریباً 3 کھرب روپے کم ہیں جو پاکستان میں ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایف بی آر نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ مقرر کردہ محصولات کا ہدف بہت زیادہ ہے یا جن ذرائع سے آمدنی متوقع ہے وہ حقیقت میں اتنی آمدن پیدا نہیں کر سکیں گے۔
یہ جائز خدشات ہیں، تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں صوبائی سرپلس کی جو شرط رکھی گئی تھی، وہ 1,464 ارب روپے تھی۔ اس میں صرف پنجاب حکومت نے 740 ارب روپے کے ساتھ اپنے ہدف کو پورا کرنے کی کوشش کی، جبکہ دیگر تمام صوبوں کے بجٹ اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ سندھ نے 38.45 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا، خیبر پختونخوا نے 157 ارب روپے اور بلوچستان نے 51.5 ارب روپے کے سرپلس کا تخمینہ لگایا۔
آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان طے پانے والی کل آمدنی تین بڑے ذرائع پر مشتمل تھی: (اول) آڈٹ، جس کے پورا ہونے کا امکان فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فعال طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے روشن ہے، تاہم اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اس سے سرمائے کے ملک سے باہر فرار (کیپیٹل فلائٹ) اور/یا صنعتوں کی بیرونِ ملک منتقلی کو شہ مل سکتی ہے؛ (دوم) جی ایس ٹی (جنرل سیلز ٹیکس) پر عمل درآمد کی کارکردگی کا تناسب جو کہ ایک بالواسطہ (انڈائریکٹ) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، فنڈ کا استدلال ہے کہ یہ تناسب گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 27.4 فیصد سے گر کر 22 فیصد پر آ گیا ہے اور اس کے لیے دیگر اشیاء پر بھی یہ ٹیکس عائد کرنا ضروری ہے جس سے غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ غذائی ضرورت کے حساب سے ناپی جائے تو پہلے ہی 43 فیصد کی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے اور (سوم) ’پروڈکشن مانیٹرنگ، ڈیجیٹل انوائسنگ کو اپنانے اور ایف بی آر کے ساتھ ریٹیلرز کی رجسٹریشن کے ذریعے جی ایس ٹی کے نفاذ کو بڑھانا، جبکہ صوبوں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے نفاذ کو سخت کر کے سروسز (خدمات) پر جی ایس ٹی کی وصولی کو تیز کریں۔ یہ سفارشات ماضی میں نظر آنے والی سیاسی مزاحمت کی عکاس ہیں اور یہ تسلیم کرنا انتہائی مشکل معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ مالی سال میں ان پر عملدرآمد آسان ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی طور پر بہترین حل یہ ہوگا کہ موجودہ مالی سال میں جاری اخراجات میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کمی کی جائے۔ یہ کمی اس مفروضے پر مبنی نہ ہو کہ پالیسی ریٹ میں کمی واقع ہوگی، جیسا کہ موجودہ سال میں توقع کی گئی تھی مگر وہ حقیقت میں پوری نہیں ہو سکی۔اس کے بجائے تمام نان آپریشنل بجٹ اخراجات میں واضح کٹوتی کی جائے، جس سے ٹیکس آمدن پر دباؤ خود بخود کم ہوگا اور ممکنہ طور پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے مختص رقوم میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026