پاکستان

ایف بی آر نے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کیلئے نئی اسکیم تیار کرلی

  • ایف بی آر اس مجوزہ اسکیم پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہا ہے تاکہ ان کی آرا اور تجاویز حاصل کی جا سکیں۔
شائع June 4, 2026 اپ ڈیٹ June 4, 2026 08:46am

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک نئی اسکیم تیار کی ہے، جس کا باضابطہ اعلان مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں متوقع ہے۔

ایف بی آر اس مجوزہ اسکیم پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہا ہے تاکہ ان کی آرا اور تجاویز حاصل کی جا سکیں۔

چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے رہنمائی نظام کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

سالانہ کاروباری حجم کی بنیاد پر اہلیت:یہ اسکیم ان چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے تیار کی گئی ہے جن کا سالانہ کاروباری حجم تقریباً 2 کروڑ روپے تک ہو۔

سادہ رجسٹریشن شرائط:وہ افراد جو کم از کم 3 سال سے کاروبار کر رہے ہوں، دکان یا کاروباری مقام رکھتے ہوں اور خصوصی پیشہ ورانہ خدمات سے وابستہ نہ ہوں، اس اسکیم کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔

پہلے سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے بھی شامل ہو سکیں گے:وہ چھوٹے ٹیکس دہندگان جو 2025 سے قبل ٹیکس ریٹرن جمع کرا رہے تھے، اگر مقررہ شرائط پوری کرتے ہوں تو اس آسان نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔

آسان رجسٹریشن کا طریقہ:رجسٹریشن ایف بی آر کے آئیرس ویب پورٹل، موبائل ایپلی کیشن یا مجاز ٹیکس مشیروں اور سہولت کاروں کے ذریعے کی جا سکے گی۔

رضاکارانہ شرکت:اس اسکیم میں شمولیت اختیاری ہوگی، تاہم شرکا کو درست اور شفاف مالی ریکارڈ برقرار رکھنا ہوگا۔

کم ٹیکس شرح:اہل چھوٹے ٹیکس دہندگان پر عمومی ٹیکس نظام کے مقابلے میں نسبتاً کم اور آسان ٹیکس شرح لاگو ہو سکتی ہے۔

کم از کم آمدنی کی حد:اسکیم کے تحت ٹیکس کی ذمہ داری عموماً اس وقت عائد ہوگی جب سالانہ آمدنی مقررہ کم از کم حد سے تجاوز کر جائے۔

آڈٹ کے امکانات کم:اسکیم میں شامل افراد کو عام طور پر آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، الا یہ کہ غیر معمولی مالی سرگرمیاں، غیر واضح بینک لین دین یا ظاہر کردہ آمدنی اور اثاثوں میں تضاد پایا جائے۔

سادہ ریکارڈ رکھنے کی ہدایت:ٹیکس دہندگان کو فروخت، اخراجات، خریداری اور دیگر کاروباری لین دین کا منظم اور سادہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ترغیب دی جائے گی تاکہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد آسان ہو۔

ودہولڈنگ اور اضافی ٹیکس:جہاں قانون کے مطابق ضروری ہوگا، وہاں بعض ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر عمومی ٹیکس قواعد کا اطلاق برقرار رہے گا۔

قواعد کی خلاف ورزی پر سزائیں:ریٹرن جمع نہ کرانے، آمدنی چھپانے یا اسکیم کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جرمانے اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بعض کاروباروں کے لیے پی او ایس یا جدید ڈیجیٹل نظام لازمی نہیں:اس اسکیم کے تحت شامل بعض چھوٹے کاروباروں کو پی او ایس مشین یا جدید ڈیجیٹل انٹیگریشن سسٹم نصب کرنے کی لازمی شرط سے استثنا حاصل ہو سکتا ہے۔

فعال ٹیکس دہندہ بننے کے فوائد:رجسٹرڈ اور قواعد پر عمل کرنے والے ٹیکس دہندگان کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (اے ٹی ایل) میں شمولیت، کم ودہولڈنگ ٹیکس اور بہتر مالی ساکھ جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

اہم وضاحت:اس اسکیم کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنا، معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دینا اور پاکستان میں رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

خطرے کی بنیاد پر آڈٹ کا انتخاب:ایف بی آر کی 2026 کی ہدایات کے مطابق آڈٹ عموماً صرف غیر معمولی یا زیادہ خطرے والے معاملات میں کیا جاتا ہے، جبکہ عام ٹیکس دہندگان کو عموماً آڈٹ کے لیے منتخب نہیں کیا جاتا۔

بینک لین دین آمدنی سے مطابقت رکھنا چاہیے:بینک میں جمع اور نکلوائی گئی رقوم کا معقول حد تک ظاہر کردہ آمدنی، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ اخراجات سے مطابقت ہونا ضروری ہے۔

غیر معمولی بینکنگ سرگرمی آڈٹ کا سبب بن سکتی ہے:اگر ظاہر کردہ آمدنی اور بینک لین دین میں غیر واضح اور نمایاں فرق ہو تو آڈٹ شروع کیا جا سکتا ہے۔

دیگر ذرائع سے معلومات کی جانچ:ایف بی آر ٹیکس دہندہ کی ظاہر کردہ آمدنی کا موازنہ مختلف اداروں اور سرکاری ریکارڈ سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔

کاروبار اور طرزِ زندگی آمدنی کے مطابق ہونا چاہیے:جائیداد، کاروبار کا حجم، اثاثے اور مجموعی طرزِ زندگی ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت رکھنے چاہییں۔

ضرورت سے زیادہ اثاثے یا اخراجات سوالات پیدا کر سکتے ہیں:اگر اخراجات، اثاثے یا سرمایہ کاری ظاہر کردہ آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوں تو یہ آڈٹ کی جانچ پڑتال کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ایماندار ٹیکس دہندگان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں:جو افراد درست اور شفاف ریکارڈ رکھتے ہیں اور اپنی آمدنی صحیح طور پر ظاہر کرتے ہیں، انہیں عموماً آڈٹ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026