پاکستان

سلامتی کونسل میں پاکستان کا لبنان پر اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

  • لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کا خیرمقدم
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے لبنان کی خودمختاری وعلاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے لبنانی رقبے پر اسرائیلی قبضے اور زمینی دراندازیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیل کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کو روکنے اور بڑھتے ہوئے تنازع کے پرامن سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ یہ ہنگامی اجلاس اس وقت بلایا گیا جب اسرائیلی افواج عرب ملک کے اندر بڑی دراندازی کرچکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم اس عمل میں ان کے مسلسل کردار کی حمایت کرتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس فرانس کی جانب سے اس وقت بلایا گیا جب اسرائیل نے لبنان کے اندر بشمول قلعہ بفور تک پیش قدمی تیز کردی ۔

دوسری طرف حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے اندر راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں کا دائرہ وسیع کردیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے باوجود لبنان میں سیکیورٹی اور انسانی صورتِ حال تیزی سے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان کا تقریباً 20 فیصد رقبہ اس وقت غیر قانونی اسرائیلی قبضے میں ہے

انہوں نے مندوبین کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حکمتِ عملی اور وہی طریقہ کار ہے جو ہم نے دوسری جگہوں پر دیکھا ہے: یعنی بلاامتیاز قتلِ عام، جبری بیدخلی (نقل مکانی)، اور غاصبانہ قبضہ۔

پاکستانی مندوب نے انسانی بحران کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مارچ سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت 3,400 سے زائد لبنانی شہری جاں بحق اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اسی طرح تشویش ناک امر امدادی اور طبی عملے پر ہونے والے اسرائیلی حملے ہیں جن کے نتیجے میں مارچ سے اب تک 125 ہیلتھ ورکرز جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان استحکام کی بحالی، ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے لبنان کی کوششوں کو سراہتا ہے کہ طاقت کا استعمال لبنانی ریاست کے جائز اداروں کے ذریعے صرف اسی کا خصوصی حق (اختیار) رہے جس میں لبنانی مسلح افواج ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام تمام فریقین کی جانب سے دشمنی کے فوری خاتمے اور جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد اور قرارداد 1701 کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے جس کے تحت اسرائیل لبنان کو الگ کرنے والی بلیو لائن تک اپنی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنائے۔

سفیر عاصم نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور امید کو فروغ دینے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔