دنیا

غزہ میں اسرائیلی جارحیت، معصوم بچے سمیت پورا خاندان شہید

  • نصرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں 3 افراد شہید ہوئے، طبی عملہ
شائع اپ ڈیٹ

وسطی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کے اپارٹمنٹ پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں چھ ماہ کے بچے سمیت تین افراد شہید ہو گئے، یہ بات صحت کے حکام نے بتائی۔

طبی عملے نے مزید بتایا کہ نصرات پناہ گزین کیمپ میں ہونے والے اس حملے میں تین افراد شہید ہوئے جن میں شیر خوار بچے کے والد محمد ابو ملوح، والدہ علاء زقلان اور ان کا بچہ اسامہ شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی غزہ میں اسرائیلی حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عسکریت پسند گروپ کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

غزہ کے صحت کے حکام کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 880 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یہ اعداد و شمار جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اسی مدت کے دوران عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کرتی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد اس کے حملوں کا مقصد حملوں کو روکنا یا لوگوں کو حماس کے ساتھ قائم جنگ بندی لائن کے قریب آنے سے باز رکھنا ہے۔