سینیٹ نے قرض کی حد سے متعلق بل سمیت 7 بلوں کی منظوری دیدی
- یہ تمام ساتوں بل پہلے ہی قومی اسمبلی سے منظور ہو چکے ہیں
پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے حکومت کے سات بلوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد (ترمیمی) بل 2026 بھی شامل ہے۔ اس بل کا مقصد مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد ایکٹ 2005 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس (ڈی ایم او) کو مضبوط بنایا جا سکے اور حکومت کے قرضوں کے انتظام سے متعلق افعال کی مؤثر منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
یہ تمام ساتوں بل پہلے ہی قومی اسمبلی سے منظور ہو چکے ہیں اور اب ان کے قانون بننے کے لیے صدر آصف علی زرداری کے دستخط درکار ہیں۔
منظور ہونے والے بلوں میں مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد (ترمیمی) بل 2026، ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026، مالیاتی اداروں (رقوم کی وصولی) (ترمیمی) بل 2026، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کنڈومینیم (ملکیت اور انتظام) بل 2026، پاکستان انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایسٹس مینجمنٹ اتھارٹی بل 2026، بحری جہازوں پر موجود خطرناک مواد کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بل 2026، اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔
یہ بل جمعرات کے روز ایوان بالا کے اجلاس میں پیش کیے گئے، جنہیں وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔
مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد (ترمیمی) بل 2026 کے اغراض و مقاصد کے بیان کے مطابق، مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد ایکٹ 2005 وفاقی مالیاتی خسارے میں کمی اور عوامی قرضے کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے ایک مناسب سطح تک لانے کے لیے مؤثر قرض مینجمنٹ فراہم کرتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس اس ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے اور ماضی میں ایک چھوٹے ادارے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ یہ دفتر مختلف فریقین کو اہم معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کے دائرہ کار کو واضح کرنے، اس کی استعداد بڑھانے اور مستقبل میں اس کی ممکنہ توسیع کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنے کی غرض سے یہ ترمیم ضروری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026