ٹیکس پالیسی یونٹ کا ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشترکہ بجٹ تجاویز پر غور
- پاکستان میں مجموعی ٹیکس بوجھ مسابقتی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس شعبے سے منسلک چھ دیگر ایسوسی ایشنز کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ان تجاویز میں ڈیوٹی میں کمی اور پولی ایسٹر اسٹیپل فائبر (پی ایس ایف) پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
صنعت کی مشترکہ تجاویز (2026-27) کے مطابق، موجودہ 7 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ چین سے درآمدات پر 11.51 فیصد تک اور چینی تائیوان، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے درآمدات پر 12.47 فیصد تک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز نے ملکی مارکیٹ میں شدید بگاڑ پیدا کیا ہے۔
نتیجتاً پاکستان اب بھی زیادہ تر کپاس پر مبنی برآمدات پر انحصار کر رہا ہے، حالانکہ عالمی سطح پر مَین میڈ فائبر (ایم ایم ایف) مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور زیادہ قدر کی حامل ہے۔
پاکستان میں مجموعی ٹیکس بوجھ مسابقتی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
اگرچہ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، تاہم برآمدکنندگان پر اضافی لیویز بھی عائد ہیں جن میں سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف)، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف)، پی ای ایس ایس آئی وغیرہ شامل ہیں۔
برآمدکنندگان کے لیے مجموعی مؤثر ٹیکس شرح ان تمام اضافی ذمہ داریوں اور ٹرن اوور پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس کے باعث بڑھ کر 68.27 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے مینیمم ٹیکس رجیم (ایم ٹی آر) میں تبدیلی نے برآمدات کی مسابقت اور کاروباری پائیداری کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
مشترکہ تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ برآمدکنندگان پر انکم ٹیکس ایڈوانس کی مد میں 1 فیصد مینیمم ٹیکس (سیکشن 154 کے تحت ایڈوانس ٹیکس) اور مزید 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس (سیکشن 147 کے تحت) عائد ہے، جس نے ان کی کیش فلو کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس کے برعکس ملکی ٹیکسٹائل تجارت سے وابستہ مینوفیکچررز صرف 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ برآمدکنندگان پر زیادہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026