پاکستان نے 1 بلین ڈالر کی کمرشل فنانسنگ حاصل کرلی، ایشیائی بینک
- دبئی اسلامک بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے اس سنڈیکیٹڈ فنانسنگ میں مشترکہ لیڈ ارینجرز کے طور پر کردار ادا کیا
پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایشیائی ترقیاتی بینک( اے ڈی بی) نے پاکستان کو 1 ارب امریکی ڈالر کی کمرشل فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے، جو ایک غیر معمولی گارنٹی اسٹرکچر کے تحت حاصل ہوئی ہے اور اس کا تعلق وسیع مالیاتی اصلاحات سے ہے۔
یہ بات بینک کی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایشیائی بینک اور اس کے شراکت داروں نے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں عملی حل فراہم کرنے، مالی خطرات کم کرنے اور ترقیاتی نتائج کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کیا۔
یہ معاونت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل معاشی بحرانوں، کمزور ٹیکس وصولیوں، بڑھتے ہوئے قرضوں کے دباؤ اور بیرونی مالیاتی امداد پر انحصار جیسے مسائل کا شکار ہے۔
ایشیائی بینک نے جون 2025 میں 800 ملین ڈالر کا مالیاتی پیکج منظور کیا، جس میں 300 ملین ڈالر کا پالیسی بیسڈ قرض اور 500 ملین ڈالر کی پالیسی بیسڈ گارنٹی شامل تھی، جو پاکستان کے اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت 2028 تک جاری رہے گی۔
ایشیائی بینک کے مطابق اس گارنٹی کی بدولت پاکستان نے 1 ارب ڈالر کی نجی اور کمرشل فنانسنگ متحرک کی، جبکہ طویل ادائیگی مدت اور بہتر قرض شرائط بھی حاصل کیں۔
دبئی اسلامک بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے اس سنڈیکیٹڈ فنانسنگ میں مشترکہ لیڈ ارینجرز کے طور پر کردار ادا کیا، جس میں سات بین الاقوامی کمرشل بینک شامل تھے۔ اس فنانسنگ میں اسلامی مالیات کا حصہ زیادہ رہا۔
پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 2024 میں صرف 9.5 فیصد رہا، جو خطے کی اوسط سے نمایاں طور پر کم ہے، جس کی وجہ سے حکومت کی ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اخراجات کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔
اصلاحاتی پروگرام کا مقصد ریونیو میں اضافہ، سرکاری اخراجات کے انتظام کو بہتر بنانا، قرضوں کے خطرات کم کرنا اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اصلاحات کے تحت پاکستان نے ٹیکس پالیسی اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے، جبکہ شفافیت اور وصولیوں میں بہتری کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس فائلنگ اور کمپلائنس سسٹمز کو وسعت دی گئی ہے۔
ایشیائی بینک کے مطابق پبلک فنانشل مینجمنٹ میں بہتری کے لیے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کو وسعت دی جا رہی ہے اور کیش فلو مینجمنٹ بہتر بنانے کے لیے کیش فورکاسٹنگ میکانزم قائم کیا جا رہا ہے۔
ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کو بھی مضبوط کیا گیا ہے تاکہ قرضوں کی شفافیت اور رسک مینجمنٹ بہتر ہو سکے۔
مزید برآں پروگرام میں پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت، ڈیجیٹل اکانومی ٹیکسیشن، ریٹیل سیونگز انفرااسٹرکچر اور کلائمیٹ فنانسنگ سے متعلق اصلاحات بھی شامل ہیں۔
ایشیائی بینک کی سینئر پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ ثنا مسعود نے کہا کہ پالیسی بیسڈ گارنٹی کے ذریعے نجی سرمایہ اکٹھا کرنے کا جدید استعمال پاکستان کی مالی اصلاحات میں مددگار ثابت ہوا ہے، جس سے زیادہ مضبوط، پائیدار اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام نے پاکستان کو دوبارہ عالمی کمرشل قرض مارکیٹس تک رسائی دی ہے اور علاقائی قرض دہندگان کی جانب سے بہتر شرائط پر بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026