ایران امن معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال، خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے مستقبل فیوچرز میں 1.39 ڈالر یا 1.3 فیصد کا اضافہ، نرخ 106.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے
رائٹرز کی اس رپورٹ کے بعد کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایک ہدایت جاری کی ہے جس کے تحت ملک کا ہتھیاروں کے معیار کے قریب افزودہ یورینیم بیرونِ ملک نہیں بھیجا جانا چاہیے جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو گیا۔
ایرانی حکومت کے دو اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اس رپورٹ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ ایران نے امن مذاکرات میں امریکہ کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک پر اپنا موقف مزید سخت کر لیا ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید مایوس کر سکتا ہے اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
گرینچ کے معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق صبح 10:37 بجے تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں (فیوچرز) میں 1.39 ڈالر یا 1.3 فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے اس کی قیمت 106.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 1.56 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 99.82 ڈالر پر پہنچ گئے۔ رپورٹ سامنے آنے سے پہلے دونوں مارکیٹوں میں مندی کا رجحان تھا۔
بدھ کو ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، دونوں بینچ مارکس (برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی) تقریباً 5.6 فیصد گر کر ایک ہفتے سے زائد کی اپنی کم ترین سطح پر آ گئے تھے۔
دوسری طرف پاکستان نے جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دیں، کیونکہ تہران کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن کے تازہ ترین جوابات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ تہران سے ”درست جوابات“ کے لیے چند دن انتظار کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس ملک پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعرات کو ایک نوٹ میں کہا کہ ہم پہلے بھی کئی بار ایسی صورتحال سے گزر چکے ہیں جو بالاآخر مایوسی پر ختم ہوئی، انہوں نے رواں سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 104 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
ایران نے مزید حملوں کے خلاف خبردار کیا ہے اور اہم ترین آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جو کہ زیادہ تر بند ہی ہے۔ جنگ سے پہلے اس آبنائے سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔
جمعرات کو سامنے آنے والے سروے کے نتائج کے مطابق مئی میں یورو زون (یورپی ممالک) میں معاشی سرگرمیاں گزشتہ ڈھائی سال سے زائد عرصے میں اپنی تیز ترین رفتار سے سکڑ گئیں، کیونکہ جنگ کی وجہ سے زندگی گزارنے کی لاگت میں ہونے والے بے پناہ اضافے نے پورے یورپ میں سروسز (خدمات) کی طلب کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کمپنیوں نے ملازمین کی برطرفی تیز کر دی ہے۔
تیل کے ذخائر میں کمی
بدھ کے روز ایران نے ایک نئی ”پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی“ (آبنائے خلیج فارس اتھارٹی) بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ”کنٹرولڈ میری ٹائم زون“ (زیرِ نگرانی سمندری علاقہ) ہوگا۔
ایران نے 28 فروری کو جنگ کا سبب بننے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس آبنائے کو عملی طور پر بند کر دیا تھا۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے بیشتر لڑائی رک چکی ہے، لیکن جہاں ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کر رہا ہے، امریکہ نے اس کی ساحلی پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم پیداواری خطے سے سپلائی (فراہمی) معطل ہونے کے باعث ممالک اپنے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر کو تیز رفتاری سے استعمال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، جس سے ان ذخائر کے مکمل طور پر ختم ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکہ کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے بدھ کو بتایا کہ ملک نے گزشتہ ہفتے اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے تقریباً 10 ملین (ایک کروڑ) بیرل تیل نکالا ہے، جو تاریخ میں ذخائر سے تیل نکالنے کی سب سے بڑی مقدار ہے۔ ای آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ کے خام تیل کے تجارتی ذخائر میں بھی توقع سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔
ایچ ایس بی سی کی سینئر گلوبل آئل اینڈ گیس اینالسٹ کم فسٹیر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے خلل کے باوجود تیل کی قیمتیں نسبتاً قابو میں رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی طرف سے خریداری میں کمی، امریکہ کی قیادت میں اٹلانٹک بیسن کی برآمدات میں اضافہ اور تجارتی و اسٹریٹیجک ذخائر کے تیز رفتاری سے استعمال نے ”فوری دستیابی کے خدشات کو کم کیا ہے اور بحران کے آغاز میں پیدا ہونے والی شدید ترسیلی مشکلات کو کسی حد تک بہتر کیا ہے۔“