ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت بیانات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ آئل فیوچرز 1.32 ڈالر یا 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 107.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
عالمی منڈی میں جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے سخت بیانات اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور قبضے کے خدشات میں اضافہ ہے۔
برینٹ کروڈ آئل فیوچرز 1.32 ڈالر یا 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 107.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 1.33 ڈالر یا 1.31 فیصد اضافے کے ساتھ 102.50 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے۔
ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ آئل میں تقریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 7 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ایران سے متعلق کمزور جنگ بندی اور جغرافیائی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر زیادہ صبر نہیں کریں گے اور ایران کو معاہدہ کرنا چاہیے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے بھی کہا کہ چین ایران کے معاملے پر عملی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کیلئے آبنائے ہرمز کھلا رکھنا بہت اہم ہے۔
دوسری جانب چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں تجارتی اور توانائی معاملات پر گفتگو ہوگی۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق ایران کے معاملے پر کسی بڑی پیش رفت کے نہ ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ اب آبنائے ہرمز میں تعطل اور ممکنہ فوجی کشیدگی کے خطرے پر مرکوز ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب بحری صورتحال بھی کشیدہ رہی، جہاں متحدہ عرب امارات کے قریب ایک جہاز کو ایرانی اہلکاروں کی جانب سے قبضے میں لینے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز ڈوب گیا۔
امریکی وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے سمندری تجارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بدھ سے اب تک 30 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو جنگ سے پہلے روزانہ 140 جہازوں کے معمول سے کم ہیں لیکن بہتری کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وقت تیل کی قیمتوں کو بنیادی سہارا سپلائی کی کمی سے مل رہا ہے، اور اگرچہ کچھ بحری جہازوں کی آمدورفت سے خدشات میں کمی آئی ہے، لیکن مجموعی رجحان اب بھی سخت سپلائی حالات کی وجہ سے اوپر کی جانب ہے۔