ورلڈ بینک نے بحرالکاہل جزائر میں معاشی سست روی کی پیش گوئی کر دی
- ورلڈ بینک نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کریں
ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کو 2026 میں معاشی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق سیاحت اور درآمدی ڈیزل پر انحصار کرنے والی یہ معیشتیں بیرونی جھٹکوں سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
سہ ماہی رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل کے تقریباً 90 فیصد جزائر میں بجلی کی پیداوار ڈیزل سے ہوتی ہے، جبکہ تیل کی درآمدات خطے کی مجموعی درآمدات کا 25 فیصد تک حصہ بنتی ہیں۔
ورلڈ بینک نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کریں تاکہ بیرونی بحرانوں سے معیشتوں کو بار بار پہنچنے والے نقصانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق جزیرہ نما 11 ممالک کی معاشی شرح نمو 2024-25 میں کم ہو کر 3.2 فیصد رہ گئی، جبکہ 2023 میں یہ 6.5 فیصد تھی۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ 2026 میں شرح نمو مزید کم ہو کر 3 فیصد سے نیچے جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی بے یقینی اب معمول بن چکی ہے اور چھوٹی جزیرہ نما معیشتیں ایسے عوامل سے متاثر ہو رہی ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
ورلڈ بینک نے پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل رابطوں کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ خطے میں قدرتی آفات اور بیرونی معاشی دباؤ کے اثرات کم کیے جا سکیں۔