ایف بی آر کا ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم میں اہم ترامیم متعارف کرانے کا فیصلہ
- وزارتِ تجارت کو آئی پی او 2022 میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت دی گئی
وزارت تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) 2021 میں ترامیم متعارف کرانے جا رہا ہے، جن میں مرمت اور بحالی کے دوران حاصل ہونے والے استعمال شدہ آٹو پارٹس یا درآمد شدہ پرزوں سے بچ جانے والے حصوں کے لیے تلفی کا طریقہ کار شامل ہوگا۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے امپورٹ پالیسی آرڈر (آئی پی او) 2022 میں حالیہ ترامیم کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کو مرمت، بحالی اور بعد ازاں دوبارہ برآمد کے لیے عارضی طور پر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سیکٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 18 جون 2025 کو ہونے والے 14ویں اجلاس میں ریفربشڈ گاڑیوں کی درآمد اور دوبارہ برآمد کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پالیسی فریم ورک کو وسعت دے کر پلانٹ مشینری اور دیگر آلات کو بھی ریفربشمنٹ اور ری ایکسپورٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔
وزارتِ تجارت کو آئی پی او 2022 میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا تاکہ اس منصوبے کے نفاذ کا فریم ورک حتمی شکل دی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ آئی پی او 2022 کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت نہیں تھی۔ پیرا 5(3) اور اپینڈکس- سی کے سیریل نمبر 10 اور 11 کے مطابق استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں اور پرزہ جات کی درآمد عمومی طور پر ممنوع ہے، سوائے چند مخصوص زمروں جیسے بلٹ پروف گاڑیاں، فائر فائٹنگ گاڑیاں، ایمبولینسز اور بعض تجارتی درآمدات کے۔
ورکنگ گروپ نے ای ایف ایس 2021 کے تحت پائلٹ منصوبے کی افادیت کا جائزہ لینے کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے۔ اسٹیک ہولڈرز نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے ای ایف ایس 2021 اور آئی پی او 2022 دونوں میں ترامیم ضروری قرار دیں۔
وزارتِ تجارت نے وزارتی فورم کو بتایا کہ ایک مسودہ سمری اسٹیک ہولڈرز کے لیے بھیجی گئی تھی، جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کیے جانے والے اہم نکات کی توثیق کی گئی۔
ان تجاویز میں آئی پی او 2022 کے اپینڈکس-سی کے سیریل نمبر 10 میں ترمیم شامل ہے تاکہ پی سی ٹی ہیڈنگ 8703 کے تحت گاڑیوں کی عارضی درآمد کی اجازت دی جا سکے، بشرطیکہ درآمد کنندگان کے پاس انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے تصدیق شدہ مرمت و ریفربشمنٹ سہولیات موجود ہوں اور وہ ای ایف ایس کے تحت ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہوں۔
اسی طرح سیریل نمبر 11 میں ترمیم کے ذریعے استعمال شدہ آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ صرف مرمت، ریفربشمنٹ اور دوبارہ برآمد کے لیے ہوگی۔
تجاویز میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ درآمد شدہ گاڑیاں اور پرزے کسی بھی صورت مقامی مارکیٹ میں فروخت، منتقل یا استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔
فورم نے وزارتِ تجارت کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے شرط عائد کی کہ ایک سال بعد ای سی سی اس منصوبے کا دوبارہ جائزہ لے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026