اداریہ

توانائی کی عالمی منڈیاں، پاکستان کیلئے سنگین اثرات

  • توانائی کی غیر مستحکم عالمی منڈیاں پاکستان سے تیل پر انحصار کم کرنے اور بیرونی معاشی جھٹکوں سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز کے گرد حالیہ کشیدگی جس نے تیل کی قیمتوں کو عارضی طور پر مہمیز دی اور پہلے سے ہی نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈیاں کتنی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خبریں ہی خام تیل کی قیمتوں کو اوپر لے جانے کے لیے کافی تھیں، جس کے بعد قیمتوں میں معمولی کمی آئی، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قیمتوں میں استحکام اب محض عارضی تحمل پر منحصر ہے۔

پاکستان کے لیے اس کے اثرات فوری اور سنگین ہیں۔ ملک نے مہنگائی کے ایک بدترین دور کے بعد ابھی اپنی میکرو اکنامک پوزیشن کو مستحکم کرنا شروع ہی کیا ہے اور یہ بحالی بھی تاحال نازک ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان توانائی کے اخراجات سے جڑے بڑھتے ہوئے قیمتوں کے دباؤ پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکا ہے اور پالیسی کو سخت کرنے کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ایک اور مسلسل اضافہ نہ صرف اس منظر نامے کو پیچیدہ بنا دے گا بلکہ اس سے بحالی کے عمل کے نیچے جانے کا بھی خطرہ ہے۔

مہنگائی کے حالیہ دباؤ کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ گھریلو صارفین اور کاروباری ادارے اب بھی قیمتوں کی بلند سطح کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ قرض لینے کی لاگت میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ایسے ماحول میں ایندھن کی قیمتوں میں نیا اضافہ تیزی سے پورے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور آخر کار آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس منتقلی کے عمل کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا بار بار تجربہ کیا جا چکا ہے۔

موجودہ صورتحال کو جو چیز خاص طور پر تشویشناک بناتی ہے وہ غلطی کی گنجائش کا بہت کم ہونا ہے۔ پاکستان کا بیرونی کھاتہ توانائی کی درآمدات کے حوالے سے حساس ہے اور تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی درآمدی بل میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ صورتحال بدلے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے اور مالیاتی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ یہ ایک جانا پہچانا چکر ہے۔ تیل کی زیادہ قیمتیں، بڑھتی ہوئی سبسڈیز یا لیوی، کرنسی پر دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جو نہ صرف معاشی شرحِ نمو کو مفلوج کر دیتی ہے بلکہ ملک کو ایک لامتناہی مالیاتی بحران کے بھنور میں دھکیل دیتی ہے۔

اس پس منظر میں خطے میں پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ملک نے مکالمے کی سہولت کاری اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں بشمول ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے سابق ادوار میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کوششوں نے فعال جنگ کو روک دیا اور اس شراکت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خطے میں استحکام کوئی خیالی ہدف نہیں ہے بلکہ یہ براہِ راست پاکستان کی معاشی بقا سے جڑا ہوا ہے۔

تاہم حالیہ کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ استحکام کتنا کمزور ہے۔ ایک اسٹریٹجک راہداری میں ہونے والا ایک واحد واقعہ چند گھنٹوں کے اندر عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ سنبھالتی ہے اور کسی بھی قسم کے ممکنہ تعطل سے تاجروں اور پالیسی سازوں کا فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔ حتیٰ کہ جب کشیدگی جلد ختم بھی ہو جائے تو بنیادی خطرہ ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ برقرار رہتا ہے اور مستقبل کی توقعات اور قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دیوار پر لکھی تحریر(حقائق) کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے جھٹکوں سے پاکستان کا متاثر ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور درآمدی فوسل فیولز پر ساختی انحصار کو ہر سابقہ اتار چڑھاؤ کے دوران اجاگر کیا گیا ہے۔ ہر بار توانائی کے ذرائع میں تنوع، کارکردگی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ہر بار پیش رفت ضرورت سے کم رہتی ہے۔

موجودہ صورتحال اس ایجنڈے کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے۔ قیمتوں میں ردو بدل یا تحفظ کے عارضی اقدامات کے ذریعے قلیل مدتی جھٹکوں کو سنبھالنا فوری دباؤ کو تو کم کر سکتا ہے لیکن یہ بنیادی کمزوری کو ختم نہیں کرتا۔درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے، متبادل توانائی کے ذرائع کو وسعت دینے اور تمام شعبوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک مستقل حکمت عملی ناگزیر ہے۔

بیرونی اور داخلی پالیسی کے درمیان واضح ہم آہنگی کی بھی ضرورت ہے۔ خطے کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ضروری ہیں اور انہیں جاری رہنا چاہیے۔ تاہم ان کے ساتھ ساتھ ایسے داخلی اقدامات بھی ہونے چاہئیں جو بیرونی مداخلتوں کے حوالے سے معیشت کی حساسیت کو کم کریں۔ اس متوازی ایڈجسٹمنٹ کے بغیر کامیاب ثالثی کی کوششیں بھی صرف عارضی ریلیف ہی فراہم کرتی ہیں۔

عالمی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ پاکستان کے لیے سبق قیمتوں کی فوری نقل و حرکت میں نہیں بلکہ اس طرزِ عمل میں ہے جس کی یہ نمائندگی کرتی ہے۔ بیرونی جھٹکے دوبارہ لگیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معیشت انہیں جذب کرنے کے لیے تیار ہے؟

فی الوقت اس کا جواب غیر یقینی ہے۔ بحالی کے آثار نمایاں ہیں لیکن ان کی بنیاد اب بھی ان قوتوں کے سامنے کھلی ہے جو ملک کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ اس کمزوری کو تسلیم کرنا پہلا قدم ہے۔ اس پر مستقل مزاجی اور فیصلہ کن انداز میں عمل کرنا وہ چیلنج ہے جو تاحال باقی ہے۔