پاکستان

پاکستان مضبوط اور پائیدار معیشت کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار

  • نائب وزیراعظم کا لاہور میں جنوبی ایشیائی فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (سافا) کانفرنس سے خطاب
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسٹریٹجک اصلاحات، علاقائی روابط، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی مضبوطی پاکستان کو ایک مضبوط اور پائیدار معیشت بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاہور میں جنوبی ایشیائی فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (سافا) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفافیت، احتساب اور مضبوط مالیاتی گورننس پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہیں۔

اسحاق ڈار نے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انقلابی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بدلتے عالمی رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو طویل مدت میں اپنی برآمدات 400 ارب ڈالر جبکہ 2030 تک کم از کم 100 ارب ڈالر تک بڑھانا ہوں گی، اور اسے قومی دفاع کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے جتنا اہم قومی مشن قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک حقیقی برآمدی کلچر فروغ نہیں پا سکا، اس لیے ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ، پیکیجنگ اور عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ کی کٹلری، گوجرانوالہ کے پنکھوں، آم، کھجور، مرچوں، دستکاری اور لائیو اسٹاک مصنوعات کی برآمدی صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔

احسن اقبال نے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو ترقی کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک سیاسی عدم استحکام میں ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحالی کیلئے 10 سے 15 سال تک مسلسل جدوجہد اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نجی شعبہ مستقبل میں معیشت کا بنیادی محرک ہوگا جبکہ حکومت کا کردار کاروبار کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026