سعودی عرب کے فوجی اڈے امریکہ کے لیے کھلے ہیں، آبنائے ہرمز آپریشن پر اختلاف کے باوجود رسائی برقرار، ذرائع
- دو باخبر سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی سعودی فضائی حدود اور اڈوں تک رسائی کا سلسلہ جاری ہے
سعودی عرب کے دو باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکی افواج کو سعودی فضائی حدود اور فوجی اڈوں تک رسائی حاصل ہے، باوجود اس کے کہ انہیں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معطل شدہ فوجی آپریشن میں انہیں استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو گزارنے کے لیے شروع کیے گئے دو روزہ مشن پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور نازک جنگ بندی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا۔
جمعرات کو امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کے بااعتماد رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے براہ راست بات چیت کی اور اس آپریشن کے لیے سعودی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
تاہم جمعہ کو دو باخبر سعودی ذرائع نے واضح کیا کہ دیگر مقاصد کے لیے امریکی افواج کی سعودی فضائی حدود اور اڈوں تک رسائی برقرار ہے۔ ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب اس آپریشن کے خلاف تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی اور یہ کارگر ثابت نہیں ہو گا۔
جمعہ کی صبح سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی رائد کرملی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مملکت تناؤ میں کمی اور مذاکرات کی کوششوں کی حمایت کے اپنے موقف پر قائم ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے باوجود اس کے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین امریکی تباہ کن بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جواب میں ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے الزام لگایا کہ فائرنگ میں پہل واشنگٹن کی جانب سے کی گئی تھی۔