کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک نے خام تیل کی سی آئی ایف درآمدات کی اجازت میں 10 جولائی تک توسیع کر دی

  • اسٹیٹ بینک نے مارچ میں عالمی صورتحال اور ملک کے لیے خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بین الاقوامی تیل مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کاسٹ، انشورنس اینڈ فریٹ (سی آئی ایف) بنیادوں پر درآمد کی اجازت میں 10 جولائی 2026 تک توسیع کر دی ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اسٹیٹ بینک نے مجاز ڈیلرز کو جاری کردہ سرکلر میں کہا کہ 11 مارچ 2026 کے ای پی ڈی سرکلر لیٹر نمبر 04 کے تحت دی گئی رعایت کو مزید دو ماہ کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکلر میں کہا گیا کہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی سی آئی ایف بنیادوں پر درآمد کے لیے دی گئی رعایت کی مدت 10 جولائی 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ابتدائی طور پر 11 مارچ 2026 کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی سی آئی ایف بنیادوں پر درآمد کی اجازت 60 دن کے لیے دی تھی، کیونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ نظرثانی شدہ ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کریں۔

سی آئی ایف نظام کے تحت فروخت کنندہ منزل کی بندرگاہ تک لاگت، انشورنس اور فریٹ اخراجات برداشت کرتا ہے، جس سے درآمد کنندگان کو آپریشنل سہولت ملتی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مارچ میں عالمی صورتحال اور ملک کے لیے خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔

صنعتی ذرائع کے مطابق اس توسیع سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو سپلائی چین کے انتظام میں مدد ملے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی توانائی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

پاکستان اپنی مقامی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے درآمدی انتظامات میں تسلسل ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے اور سپلائی میں تعطل سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026