مارکٹس

پاکستان نے 2 ایل این جی کارگو کیلئے ٹینڈر جاری کر دیا

  • ہر کارگو کا حجم 140,000 کیوبک میٹر ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے والا ایک حکومتی ذیلی ادارہ ہے نے ایل این جی کے کارگوز کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کردیا ہے۔

کمپنی نے بین الاقوامی سپلائرز سے ایل این جی کے دو کارگوز کی خریداری کیلئے بولیاں طلب کی ہیں جو رواں ماہ کے آخر میں پورٹ قاسم کراچی پر فراہم کیے جائیں گے۔

بدھ کو جاری کردہ ایک سرکاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق یہ کارگوز ڈلیورڈ ایکس شپ (ڈی ای ایس) کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں گے جن کی ترسیل کے لیے 12 سے 14 مئی اور 24 سے 26 مئی 2026 کی تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔

ہر کارگو کا حجم 140,000 کیوبک میٹر ہوگا۔

پی ایل ایل ایک سرکاری ادارہ ہے جو پاکستان کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت رجسٹرڈ ہے اور حکومتِ پاکستان کی وزارتِ توانائی کے زیرِ انتظام کام کرتا ہے۔ یہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کا مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ ہے۔

پی ایل ایل کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے قدرتی گیس، ایل این جی اور آر ایل این جی کی درآمد، خریداری، ذخیرہ اندوزی، سپلائی، تقسیم، ترسیل، پراسیسنگ اور فروخت کے ساتھ ساتھ ان کی پیمائش اور میٹرنگ کے کاروبار کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اسی حیثیت میں پی ایل ایل بین الاقوامی مارکیٹوں سے ایل این جی حاصل کرتا ہے اور صارفین تک گیس کی فراہمی کے لیے آگے کے انتظامات کرتا ہے، یوں یہ خریداری سے لے کر صارف تک ایل این جی کی پوری سپلائی چین کا انتظام سنبھالتا ہے۔

گزشتہ ماہ سپلائی کے راستوں میں خلل اور اس کے نتیجے میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے درمیان پی ایل ایل نے اپریل اور مئی کے لیے ایل این جی کے تین کارگوز کا ٹینڈر جاری کیا تھا۔

اس جاری کردہ ٹینڈر کے بعد پی ایل ایل کو بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے ایل این جی کے کارگوز کی اسپاٹ خریداری کے لیے چار بولیاں موصول ہوئیں۔

دریں اثنا آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے حال ہی میں 2025 کے فریم ورک معاہدے کے تحت پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے جو سوکار ٹریڈنگ کے ذریعے فوری خریداری کی اجازت دیتا ہے۔