کاروبار اور معیشت

ٹیکس پالیسی یونٹ کا معیشت کے فروغ کیلئے ٹیکس ریشنلائزیشن یقینی بنانے کا اعلان

  • ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری، توسیع اور کاروباری حجم میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ (ٹی پی یو) نے عندیہ دیا ہے کہ دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں میں معاشی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس میں توازن (ٹیکس ریشنلائزیشن) کو یقینی بنایا جائے گا، خصوصاً ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری، توسیع اور کاروباری حجم میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو درپیش اصل چیلنج صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ ایسا نظام وضع کرنا ہے جو کاروباری اعتماد کو بھی برقرار رکھے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے ٹیکس پالیسی کی علیحدگی اسی صورت مؤثر ہوگی جب ٹی پی یو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرے۔

اس ضمن میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا کردار بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی معاونت کے ذریعے مراعاتی ٹیکس پالیسی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹی پی یو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے گا، بجائے اس کے کہ محدود دستاویزی شعبوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ پاکستان میں ریٹیل، چھوٹے پیمانے کی صنعت اور تھوک تجارت کا بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے، جسے مرحلہ وار ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔

ادھر جولائی تا اپریل (2025-26) کے دوران ایف بی آر کو 683 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، جس سے محصولات کے حصول کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ بوجھ صرف رجسٹرڈ صنعتوں پر ڈالنے سے سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔

گزشتہ برسوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا نے بھی کاروباری ماحول پر اثر ڈالا ہے، جن میں پراکٹر اینڈ گیمبل، فائزر اور ڈوپونٹ شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایران اسرائیل جنگ کے باعث توانائی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے، جس سے پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی غیر رسمی معیشت جی ڈی پی کے 30 سے 40 فیصد تک ہے، جس کے باعث ٹیکس کا بوجھ محدود شعبوں پر مرتکز ہو جاتا ہے۔ ماہرین نے تجویز دی کہ ٹیکس پالیسی کو متوازن اور پیشگوئی کے قابل بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔

مزید برآں، ماہرین نے کہا کہ مشروبات کے شعبے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں معمولی کمی پیداوار اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ دیگر زیادہ چینی استعمال کرنے والے غیر دستاویزی شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026