ٹرمپ کی یورپی رہنماؤں پر تنقید سے امریکا اور یورپ کے تعلقات میں سرد مہری مزید بڑھ گئی
- “ٹرمپ کو ہینڈل کرنا سیکھ لیا ہے، فوری ردعمل سے گریز ضروری ہے۔" یورپی سفارت کار
گزشتہ ہفتے اُن لوگوں کے لیے حوصلہ افزا نہیں رہے جو یہ سمجھتے تھے کہ یورپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کو بخوبی نبھا سکتا ہے۔ اس ہفتے ٹرمپ نے ایران جنگ پر تنقید کے جواب میں جرمن چانسلر فریڈرِش مرز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ”بالکل غیر مؤثر“ قرار دیا اور جرمنی میں موجود 36,400 امریکی فوجیوں کی تعیناتی ختم کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔
انہوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو غیر معمولی حد تک ذاتی انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ “ونستون چرچل نہیں ہیں” اور برطانیہ سے درآمدات پر ”بڑا ٹیرف“ عائد کرنے کی دھمکی بھی دی۔
یورپ کے لیے مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع نے ایسے نیٹو اتحادیوں کو سزا دینے کی تجویز دی ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی کارروائیوں کی حمایت نہیں کر رہے، جن میں اسپین کی رکنیت معطل کرنے اور فاک لینڈ جزائر کو برطانیہ کے زیرِانتظام علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی مؤقف پر نظرثانی بھی شامل ہے۔
ایک یورپی سفارت کار نے کہا، ”کم از کم یہ کہنا کافی پریشان کن ہے۔ ہم ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“
امریکا کی حالیہ سخت بیانات، جو ایران جنگ پر اختلافات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، بظاہر امریکا اور یورپ کے تعلقات کو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی دنوں کی کشیدگی کی طرف واپس لے گئے ہیں، اور ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک غیر متوقع اتحادی کو کس طرح بہتر طور پر سنبھالا جائے۔
ایک دوسرے یورپی سفارت کار نے کہا کہ جرمنی کی سابق چانسلر انگیلا مرکل، جن کے ٹرمپ کے ساتھ پہلی مدتِ صدارت میں تعلقات کشیدہ رہے، نے درست طرزِ عمل کا نمونہ پیش کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ”ہم سب ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر انداز میں نبھانا کسی حد تک سیکھ چکے ہیں۔ فوری ردعمل نہیں دینا چاہیے، طوفان کے گزرنے کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔“
سفارت کار کے مطابق، حتیٰ کہ خوشامد کی کوشش کرنے والوں کو بھی ٹرمپ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ ”جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا، انہیں بھی دوسروں کی طرح تنقید اور طنز کا سامنا کرنا پڑا۔ اب سب کو سمجھ آ چکا ہے کہ خوشامد بھی کام نہیں کرتی۔“
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایک بار پھر تنقید کی زد میں
گزشتہ سال امریکی ٹیرف، ٹرمپ کی گرین لینڈ کے حصول کی کوشش اور یوکرین کے لیے امریکی امداد میں کٹوتی نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو گہرے طور پر غیر مستحکم کر دیا تھا۔
کچھ رہنماؤں، جن میں اسٹارمر، مرز اور اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی شامل ہیں، نے باقاعدہ دوروں، تجارتی معاہدوں اور پالیسی میں تبدیلیوں کے ذریعے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، جن میں سے بعض اقدامات اندرونِ ملک غیر مقبول بھی تھے، مگر فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد وہ ایک بار پھر تنقید کے نشانے پر آ گئے۔
یہاں تک کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے، جو یورپ میں “ٹرمپ کے معاملات سلجھانے والے” کے طور پر جانے جاتے ہیں، کو بھی اس ماہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ نے میلونی پر بھی سخت تنقید کی—جو کبھی ان کی پسندیدہ یورپی رہنما سمجھی جاتی تھیں،اس وقت جب انہوں نے ایران جنگ پر تنقید کی اور ٹرمپ کے اس بیان کو، جس میں انہوں نے پوپ لیو پر “ناقابلِ قبول” لفظی حملہ کیا تھا، آڑے ہاتھوں لیا۔
اگرچہ امریکی انتظامیہ کے کئی ارکان یورپ کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں، لیکن صدر کی ریپبلکن پارٹی کے تمام ارکان ٹرمپ کے اس طرزِ عمل سے متفق نہیں۔
ریپبلکن رکن کانگریس ڈان بیکن نے جمعرات کو ایکس پر لکھا کہ نیٹو اتحادیوں پر مسلسل حملے ”غیر نتیجہ خیز ہیں اور یہ امریکیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں“، یہ بیان اس وقت آیا جب ٹرمپ نے جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کی دھمکی دی۔
انہوں نے کہا، ”جرمنی میں موجود دو بڑے ایئر بیس ہمیں تین براعظموں تک رسائی دیتے ہیں۔ ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔“
اس ہفتے ٹرمپ کی کچھ سوشل میڈیا پوسٹس نے یورپی حکام کو حیرت میں ڈال دیا۔
جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد سے متعلق پوسٹ سے محض دو گھنٹے قبل برلن کے اعلیٰ فوجی افسر کارسٹن بریور نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں پنٹاگون میں امریکی نائب وزیرِ دفاع ایلبرج کولبی سے ملاقات کے دوران جرمنی کی نئی دفاعی حکمتِ عملی پر مثبت اشارہ ملا تھا، اور اس بات کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی پر بات ہوئی ہے۔
جرمن سفارتخانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایک سابق اعلیٰ امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق جرمن فوجی حکام اس صورتحال کو نسبتاً اطمینان سے دیکھ رہے تھے اور فوجی تعاون برقرار تھا۔ ان کے مطابق، ”ان کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ فلم پہلے بھی دیکھی ہے۔ یہ زیادہ تر شور شرابا ہے، اور آخر میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔“
امریکا کے خلاف زیادہ جرات مندانہ مؤقف
جیفری رتکے نے کہا کہ یورپی اتحادی ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف اب زیادہ جرات مندانہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ اندرونی سیاسی دباؤ ہے۔
ان کے مطابق، ” مرز نے ایران کے خلاف جنگ کے امریکی فیصلے پر اپنی تنقید میں نمایاں شدت اختیار کر لی ہے۔ یہ واضح ہے کہ دو ماہ پہلے کے مقابلے میں بہت کچھ بدل گیا ہے، جب وہ یہ کہنے پر زور دیتے تھے کہ ’یہ وقت امریکا کو نصیحت کرنے کا نہیں ہے‘۔“
انہوں نے کہا کہ ”امریکی جنگ جرمن عوام کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا وہ محض ایک فاصلے سے مشاہدہ کر سکیں۔ یہ ان پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے،“ اور اس کی مثال کے طور پر جنگ سے جڑی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیا۔
یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے بدستور پرعزم ہیں، تاہم یورپ اور امریکا کے درمیان ”ارضیاتی پلیٹوں“ کی طرح بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس لیے تبدیلی ناگزیر ہے۔
ایک مغربی سفارت کار نے کہا، ”ہمارے لیے اصل سبق یہ ہے کہ ہم اب دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے اس اسٹیٹس کو پر مزید انحصار نہیں کر سکتے، اور ہمیں صرف نرم طاقت کا خطہ نہیں بلکہ ایسا خطہ ہونا ہوگا جس کے پیچھے طاقت بھی موجود ہو۔“
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک اپنی عسکری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔