5 لاکھ 11 ہزار بیرل ڈیزل کے ساتھ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کرگیا
- توقع ہے کہ ٹینکر 4 مئی کو کراچی پہنچ جائے گا
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق کویت سے ڈیزل سے لدا ہوا ایک پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا دیکھا گیا، جو اس محصور آبی گزرگاہ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
بلومبرگ نے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ خیرپور نامی ٹینکر نے جمعرات کو اپنا سفر شروع کیا اور تہران کی منظوری سے قشم اور لارک جزائر کے قریب شمالی راستے پر روانہ ہوا۔
خیرپور شپنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے زیرِ انتظام چلنے والا یہ جہاز پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی جانب بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ 4 مئی کو پہنچ جائے گا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کیپلر کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ خیرپور ٹینکر کویت کی مینا الاحمدی بندرگاہ سے تقریباً 5 لاکھ 11 ہزار بیرل ڈیزل لے کر روانہ ہوا۔
گزشتہ ماہ پاکستانی پرچم بردار ٹینکر شالامار متحدہ عرب امارات سے لوڈ کیا گیا خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوا۔ یہ افرا میکس ٹینکر تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بیرل ابو ظہبی کے داس بلینڈ خام تیل سے لدا ہوا تھا۔
فروری کے آخر سے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی اور دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہو گئی۔
صرف مارچ میں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔
8 اپریل سے جنگ بندی تو عمل میں آچکی تاہم جمعرات کی شام ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔
انہیں یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ میری رائے میں اس سے قطع نظر کہ ثالث کون ہے، بہت مختصر وقت میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی توقع رکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو جمعرات کو ایران پر نئے فوجی حملوں کے سلسلے کے منصوبوں پر بریفنگ دی جانی تھی جس کا مقصد ایران کو تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔