کیپٹو گیس لیوی میں اصلاح
- آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس پر عائد لیوی کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے قیمت کے فارمولے میں تبدیلی پر اتفاق کیا ہے
آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس پر عائد لیوی کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے قیمت کے فارمولے میں تبدیلی پر اتفاق کیا ہے، جو پہلے ہی بنیادی طور پر غلط تھا۔ یہ فارمولا پیک ریٹس پر مبنی تھا، جبکہ اسے پیک اور آف پیک ریٹس کے وزنی اوسط پر ہونا چاہیے تھا تاکہ یہ گرڈ ٹیرف کے استعمال کے ساتھ بہتر مطابقت رکھ سکے۔ اگر درست حساب لگایا جائے تو اس نظرثانی کے بعد لیوی میں تقریباً 60 فیصد کمی متوقع ہے، جس سے یہ کم ہو کر تقریباً 600 سے 700 روپے رہ جائے گی، جبکہ مؤثر قیمت تقریباً 4,100 سے 4,200 روپے فی یونٹ کے برابر ہو گی۔
یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور اس کا کریڈٹ وزارت پیٹرولیم کو جاتا ہے جس نے اس کے لیے بھرپور کوشش کی۔ تاہم کئی صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ ریلیف ناکافی ہے۔ مثال کے طور پر سیمنٹ اور دیگر صنعتی صارفین اب بھی گرڈ سے منسلک رہ سکتے ہیں، کیونکہ گرڈ ٹیرف کم ہو کر تقریباً 32 روپے فی یونٹ تک آ گیا ہے، جبکہ گیس پر مبنی کیپٹو جنریشن کی لاگت لیوی میں کمی کے باوجود تقریباً 42 روپے فی یونٹ رہے گی۔ اگر کمبائنڈ سائیکل پلانٹس چلانے والے صارفین کو تقریباً 4 روپے فی یونٹ کی مزید بچت بھی حاصل ہو جائے تو بھی یہ فائدہ کافی نہیں ہوگا۔
یہ اقدام زیادہ تر ان صارفین کو فائدہ دے گا جن کے پاس گرڈ کنکشن نہیں، یا جنہیں گرڈ کی ناقص فراہمی اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ جب گیس بہت مہنگی ہو گئی تو کچھ صارفین نے فرنس آئل پر مبنی کیپٹو جنریشن کی طرف رخ کیا، جو اگرچہ مہنگا تھا مگر پھر بھی ایک قابلِ عمل متبادل تھا۔
حکومت نے آئی ایم ایف سے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) حاصل کرنے کے لیے فرنس آئل پر بھاری لیوی عائد کر دی، جس سے ریفائنریوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے کیونکہ انہیں لازماً پیدا ہونے والا فرنس آئل فروخت کرنا ہوتا ہے۔ وزارت خزانہ نے قرض کے حصول کی کوششوں میں وزارت پیٹرولیم کی مجبوریوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ نتیجتاً کچھ صنعتیں فرنس آئل سے ہٹ گئیں جبکہ کچھ اب بھی اسی پر چل رہی ہیں یا گیس استعمال کر رہی ہیں۔
اب ایران-امریکا جنگ کے باعث فرنس آئل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اور تقریباً تمام صارفین کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں، جس سے اس کی لاگت 60 سے 65 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال میں گیس لیوی میں کمی فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے گیس پر مبنی لاگت تقریباً 50 روپے سے کم ہو کر 42 روپے فی یونٹ تک آ جاتی ہے، جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر، خصوصاً برآمدی صنعتیں، زیادہ مسابقتی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر جب شرح مبادلہ کے دباؤ کے باعث ان کی عالمی مسابقت پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے اور پیٹرولیم ڈویژن کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے لیے اس پالیسی کا مقصد اپنی گیس اور فرنس آئل کی زیادہ سے زیادہ کھپت کو یقینی بنانا ہے۔
فرنس آئل کا مسئلہ بدستور موجود رہے گا، جبکہ آر ایل این جی کی عدم دستیابی نے گیس کے اضافی دباؤ کے مسئلے کو کسی حد تک کم کیا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ دستیاب ملکی گیس کو مؤثر طریقے سے صارفین تک پہنچایا جائے۔ سی این جی کو سپلائی نہیں ہو رہی، فرٹیلائزر سیکٹر کو آدھی سپلائی مل رہی ہے، اور کچھ گیس پاور سیکٹر کو دی جا رہی ہے، جبکہ باقی سپلائی (خاص طور پر ایس ایس جی سی نیٹ ورک میں) کیپٹو صارفین کے استعمال میں آ رہی ہے۔
موجودہ غیر معمولی صورتحال کے باعث پیٹرولیم اور صنعتی شعبوں پر دباؤ برقرار رہے گا، تاہم لیوی فارمولے کی درستگی ایک محدود مگر اہم ریلیف ضرور فراہم کرتی ہے۔