مارکٹس

امریکہ ایران تنازع میں اضافے کا خدشہ؛ تیل کی قیمتیں عروج کے بعد کم ہونے لگیں

  • عالمی آئل بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی تیل کی قیمتیں جمعرات کو 126 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرتے ہوئے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، کیونکہ خدشات تھے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر سکتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے تک تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم بعد ازاں قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

مارکیٹ میں اس سے قبل تیزی دیکھی گئی جب بدھ کو امریکی ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی جائے گی، اس امید کے ساتھ کہ اس دباؤ کے نتیجے میں تہران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اس اجلاس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شریک ہوں گے۔

امریکا اوراسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے آغاز کے بعد برینٹ تیل کی قیمت دگنی ہو چکی ہے، جبکہ امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی مہنگائی میں دوبارہ تیزی اور امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب رواں سال کے آخر میں وسط مدتی انتخابات متوقع ہیں۔ تیل، گیس اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات گاڑیوں، ٹرکوں اور طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے، گھروں اور صنعتوں کو توانائی دینے، اور پلاسٹک و کھاد کی تیاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

آئل بروکر پی وی ایم کے جان ایونز نے کہا، ”جو لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ برینٹ کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، وہ ابھی سے نظریں ہٹا لیں۔“

عالمی آئل بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز ایک موقع پر بڑھ کر 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 9 مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے، تاہم 1327 جی ایم ٹی تک یہ 4.14 ڈالر یا 3.5 فیصد کمی کے ساتھ 113.89 ڈالر پر آ گئے۔ جون ڈیلیوری کا فوری کنٹریکٹ جمعرات کو ختم ہو رہا ہے، جبکہ زیادہ فعال جولائی کنٹریکٹ 1.74 ڈالر یا 1.6 فیصد کمی کے ساتھ 108.70 ڈالر پر تھا۔

ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے فیوچرز 2.28 ڈالر یا 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 104.60 ڈالر پر آ گئے، تاہم اس سے قبل یہ 110.93 ڈالر تک پہنچے تھے، جو 7 اپریل کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

دونوں بینچ مارکس مسلسل چوتھے ماہ اضافے کی راہ پر ہیں، جو اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران سے متعلق تنازع آئندہ کئی ماہ تک عالمی تیل کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایران جنگ کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ

دن کے دوران بلند ترین سطح سے قیمتوں میں کمی کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔

پی وی ایم کے ہی تاماس ورگا کے مطابق یہ کمی کسی مخصوص پیش رفت سے جڑی نہیں لگتی بلکہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کی عکاس ہے۔

تاجروں کے مطابق جی ایم ٹی 0930 سے کچھ قبل جون برینٹ کے دو بڑے سیل آرڈرز دیکھنے میں آئے، جس کی تصدیق ایل ایس ای جی کے ڈیٹا سے بھی ہوتی ہے۔ دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹس کی میعاد ختم ہونے سے پہلے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے۔

ایس ای بی ریسرچ کے تجزیہ کار اولے ہوالبائے نے کہا، ”یہ بہت غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہیں، دن کے اندر وہ اتار چڑھاؤ جو عام طور پر مہینوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ایک انتشار ہے… اس میں بنیادی رجحان کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔”

یورپی مالیاتی منڈیوں میں برینٹ سب سے زیادہ حرکت دکھانے والا عنصر رہا، جبکہ جاپانی ین میں اضافے نے زرمبادلہ کی ممکنہ مداخلت کی قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔

جمعرات کو جاپان کی کرنسی ین میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جو تین سال سے زائد عرصے میں ایک دن کا سب سے بڑا اضافہ ہے، اس کے بعد کہ ٹوکیو حکام نے خبردار کیا تھا کہ کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کے ساتھ ساتھ توانائی سمیت دیگر منڈیوں میں بھی اقدامات متوقع ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم ساتھ ہی ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی بھی عائد کر دی تھی۔

تنازع کے حل کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی تیل سپلائی میں خلل کا باعث بنی ہے۔ امریکہ ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر بات چیت پر زور دے رہا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز پر کچھ کنٹرول اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائی کیمور کے مطابق، ”ایران تنازع کے جلد حل یا آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات فی الحال انتہائی محدود نظر آتے ہیں۔“

جہاز رانی کی سرگرمی تاحال محدود

جمعرات کو دستیاب شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم سات جہاز—جو معمول کی آمدورفت کے مقابلے میں نہایت کم ہیں—آبنائے ہرمز سے گزرے۔

کیپلر کی شپ ٹریکنگ اورسائن میکس کے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق ان میں تین ڈرائی بلک کیریئرز اور ایک کنٹینر جہاز شامل تھا، جبکہ دو بٹومین ٹینکرز بھی اس راستے سے روانہ ہوئے۔

جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے۔

او اینڈا (OANDA) کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اوپیک+ سے ممکنہ اخراج کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات، اس گروپ کے اثر و رسوخ میں کمی کے طویل المدتی مضمرات پر بھاری پڑ رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ تقریباً 60 برس کی رکنیت کے بعد اوپیک سے علیحدگی اختیار کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک اور اوپیک+ سے اخراج کے بعد متحدہ عرب امارات کو برآمدات بحال ہونے پر پیداوار بڑھانے کی گنجائش ملے گی، تاہم فی الحال اس کا مارکیٹ کے بنیادی عوامل پر زیادہ اثر متوقع نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باعث طلب میں کمی (ڈیمانڈ ڈسٹرکشن) موجودہ سخت سپلائی کی صورتحال کو کسی حد تک کم کرنے کا ممکنہ سبب بن سکتی ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق بلند قیمتوں کے باعث صارفین اور صنعتی خریداروں کے استعمال میں کمی سے تقریباً 16 لاکھ بیرل یومیہ طلب کم ہو سکتی ہے، تاہم یہ کمی بھی مارکیٹ کو درپیش سپلائی خلا کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔