مارکٹس

تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل 800 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، وزیراعظم

  • ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ علاقائی تنازع کے باعث پاکستان کا تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل تقریباً 167 فیصد کے بھاری اضافے کے ساتھ 800 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو جنگ سے قبل تقریباً 300 ملین ڈالر تھا۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ اس جمعہ کو ہم عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق نئی مقامی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔ یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے۔

وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ محنت کے نتیجے میں دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں تیل کے حصول کے لیے لمبی قطاریں یا افراتفری کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی اور حالات مستحکم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے پہلے ہمارا ہفتہ وار تیل کا درآمدی بل 300 ملین ڈالر تھا جو اب 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اسی لیے تیل کی بچت کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

عالمی سطح پر بدھ کے روز بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ ان رپورٹس کو قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں توسیع کرے گا، جس سے مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں خلل طویل ہو سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کے سودے 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم نے معیشت کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے میکرو سطح پر معیشت کو مستحکم کیا تھا اور ہم ترقی کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن اس اچانک چھڑنے والی جنگ نے گزشتہ دو سالوں کی اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ہمارے بس سے باہر ہے، تاہم ہم دعا گو ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو اور امن بحال ہو۔

نجکاری کے محاذ پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں پی آئی اے کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ لیا ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ مشیر برائے نجکاری محمد علی کے مطابق اس عمل سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا اور معاملہ حل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے صوبوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ سبسڈی میں توسیع کے لیے مشاورت شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں نے زراعت کے شعبے کی پہلے ہی مدد کی ہے، اب ہمیں ان سے عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی جاری رکھنے کی درخواست کرنی چاہیے۔