کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس میں تقریباً 1200 پوائنٹس کی گراوٹ

  • کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 169,497.35 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو فروخت کا دباؤ غالب رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس تقریباً 1200 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، غیر یقینی صورتحال کے باعث ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 169,268 پوائنٹس تک گرگیا۔

جیسے جیسے سیشن آگے بڑھا انڈیکس بتدریج گراوٹ کا شکار رہا، تاہم اس دوران وقفے وقفے سے ریکوری بھی دیکھنے میں آئی۔ یہ چھوٹی ریکوریز منتخب حصص کی خریداری یا کم قیمتوں پر شیئرز حاصل کرنے کے رحجان کی نشاندہی کرتی ہیں لیکن فروخت کے مجموعی دباؤ نے مسلسل ان پر غلبہ برقرار رکھا۔

سیشن کے دوسرے ہاف میں مارکیٹ نے معمولی ریکوری کی کوشش کی اور سہ پہر کے وقت انڈیکس میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا، تاہم اس کے فوراً بعد ٹریڈنگ سیشن کے اختتام کے قریب حصص کی شدید فروخت دیکھنے میں آئی۔

کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1,174.69 پوائنٹس یا 0.69 فیصد کی کمی سے 169,497.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بہتری کیپیٹل کے مطابق مارکیٹ میں محتاط رویہ پایا جاتا ہے کیونکہ سرمایہ کار ہفتہ وار تعطیلات کے دوران سامنے آنے والی اہم سفارتی اور معاشی خبروں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک اہم پیش رفت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیاجس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے وابستہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال، عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، آئی ایم ایف سے منسلک اضافی پالیسی خدشات اور ملک میں توانائی کی قلت جیسے عوامل نے مل کر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 3,266.98 پوائنٹس یا 1.9 فیصد کی کمی کے ساتھ 170,672.04 پوائنٹس پر بند ہوا ۔

عالمی سطح پر پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات میں رکاوٹ کو مزید طول دے دیا جب کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات سے متعلق نئی لہر نے چِپ اسٹاکس کی قیمتوں کو بھی بڑھا دیا۔ یہ تیزی ایک ایسے ہفتے کے آغاز میں دیکھی گئی ہے جہاں جنگ، مرکزی بینکوں کے فیصلے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع کی رپورٹس مرکزِ نگاہ ہیں۔

ایشیائی تجارت کے دوران بینچ مارک برینٹ کروڈ کے سودوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح 107.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، یہ وہ سطح ہے جس نے مہنگائی کے خدشات کو ہوا دی اور تاجروں کو اس سال ترقی یافتہ مارکیٹوں میں شرح سود میں کمی کی توقعات تقریباً ختم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایشیائی سیشن میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، لیکن تائیوان، ٹوکیو اور سیئول کی مارکیٹوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے نئی امیدوں کی لہر کے باعث وال اسٹریٹ کی پیروی میں ریکارڈ حد تک اضافے کے بعد، ان میں بھی تقریباً 0.2 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کرنسی کی تجارت مجموعی طور پر مستحکم رہی جس میں یورو 1.1724 ڈالر اور ین 159.32 فی ڈالر پر رہا۔ جاپان، امریکہ، برطانیہ، یورپ، کینیڈا اور چند ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے مرکزی بینکوں کے اجلاسوں سے قبل بانڈ مارکیٹس میں سکون دیکھا گیا۔

اگرچہ دو ماہ قبل ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ میں سیز فائر نے زیادہ تر لڑائی کو منجمد کردیا لیکن مارکیٹس کی توجہ اب بھی بند آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے جہاں سے تیل و گیس لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔