ایران پر امریکی ناکہ بندی عالمی سطح تک پھیل گئی، امریکی وزیر دفاع

  • ہماری ناکہ بندی بڑھ رہی ہے اور اب یہ عالمی شکل اختیار کر چکی ہے، پیٹ ہیگستھ کی میڈیا سے گفتگو
شائع April 24, 2026 اپ ڈیٹ April 24, 2026 08:01pm

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگ ستھ نے کہا ہے کہ ایران کی امریکی ناکہ بندی اب عالمی سطح تک پھیل رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے پاس واشنگٹن کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے۔

ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہماری ناکہ بندی بڑھ رہی ہے اور اب یہ عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی (جہاز) آبنائے ہرمز سے دنیا کے کسی بھی حصے کے لیے سفر نہیں کر سکتا۔

پاکستانی ذرائع نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات جلد ہی پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اس سے قبل رواں ہفتے کے شروع میں ہونے والے مذاکرات کا دور ناکام ہو گیا تھا۔

ٹاپ امریکی جنرل ڈین کین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بے چین نہیں ہے، انہوں نے ٹرمپ کے گزشتہ ریمارکس کو دہرایا کہ ان کے پاس دنیا کا سارا وقت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جانتا ہے کہ مذاکرات کی میز پر سمجھداری سے فیصلے کرنے کے لیے ان کے پاس اب بھی موقع موجود ہے۔ انہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ بامعنی اور قابلِ تصدیق طریقوں سے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائیں۔

جنرل کین نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ایران کی تمام بندرگاہوں کی سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق جمعہ کی صبح تک 34 جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج بحر الکاہل اور بحر ہند میں بھی ایرانی جہازوں کی روک تھام جاری رکھے گی۔

کین نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی قومیت کے ایسے جہاز کے خلاف ناکہ بندی کر رہے ہیں جو ایرانی بندرگاہ یا علاقے کی طرف جا رہا ہو یا وہاں سے آ رہا ہو۔ ہم ان مشکوک جہازوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں یا وہاں سے دور جا رہے ہیں اور ہم انہیں روکنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کی امریکی بحری ناکہ بندی کا آغاز 13 اپریل کو ہوا تھا۔ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوئی بھی ایرانی کوشش جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت جاری ہے لیکن یہ توقع سے کہیں زیادہ محدود اور پُرخطر ہے کیونکہ ایران مسلح چھوٹی اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں کر رہا ہے۔