پاکستان

امریکا ایران مذاکرات کا امکان نہ ہونے کے باوجود اسلام آباد میں سکیورٹی لاک ڈاؤن برقرار

  • یہ اقدامات فی الحال ختم نہیں کیے جا رہے، حکام
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد تقریباً ایک ہفتے سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کا منتظر ہے، تاہم ابھی تک دونوں فریقوں کی ملاقات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا، اس کے باوجود شہر کے بڑے حصے بدستور حکام کی جانب سے سیل ہیں۔

اسلام آباد آنے والی اہم شاہراہیں بند ہیں اور انتظامی مرکز یعنی ریڈ زون کے گرد سخت سکیورٹی حصار قائم ہے۔ اس کے ساتھ واقع بلیو ایریا میں کیفے پھلوں سے خالی ہو چکے ہیں، بازار سنسان ہیں، جبکہ بس اڈوں پر سروس بند ہونے سے ویک اینڈ پر سفر کرنے والے افراد گھروں کو واپس جانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات فی الحال ختم نہیں کیے جا رہے اور وہ کسی بھی وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت وفود کی آمد کے لیے تیار ہیں۔ ایک اہلکار کے مطابق ہمیں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کسی بھی دن ہو سکتے ہیں۔

موجودہ لاک ڈاؤن دو ہفتوں میں دوسرا ہے۔ 11 اپریل کو بھی مذاکرات کے لیے شہر کو سیل کیا گیا تھا، جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ شہر کچھ عرصے کے لیے کھولا گیا، پھر دوبارہ سیل کر دیا گیا تاہم دوسرے مرحلے کے مذاکرات تاحال نہیں ہو سکے۔

شہریوں کے لیے سب سے مشکل چیز غیر یقینی صورتحال ہے۔ اسلام آباد ایک ایسا شہر ہے جہاں بہت سے لوگ ہفتے کے دن کام کرتے اور ویک اینڈ پر اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں، مگر اب یہ معمول متاثر ہو چکا ہے۔

35 سالہ رضوانہ رئیس جمعرات کو بس اڈے پہنچیں تاکہ ایبٹ آباد جا سکیں، مگر وہاں نہ بسیں تھیں نہ کوئی روانگی۔ انہوں نے کہا، کبھی کہا جاتا ہے وفود آ رہے ہیں، کبھی کہا جاتا ہے نہیں۔ اب تو اگر وہ آئیں بھی تو لوگ تصاویر اور ویڈیوز دیکھے بغیر یقین نہیں کریں گے۔

بس اسٹیشن کے منیجر عبد الرحمان ارشاد کے مطابق گزشتہ پانچ سے چھ دنوں سے ٹرمینل بند ہے جس سے روزانہ ایک ہزار سے زائد مسافر متاثر ہو رہے ہیں۔

ادھر شہر میں خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ پھل اور سبزی فروش سیف الرحمان عباسی کے مطابق سپلائی لے کر آنے والے ٹرک شہر کے باہر روکے گئے ہیں جس سے خراب ہونے والی اشیا ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

بلیو ایریا کے ایک کیفے میں عملے نے بتایا کہ اسٹرابیری سمیت کئی اشیا ختم ہو چکی ہیں جبکہ قریبی مارکیٹیں بھی ویران پڑی ہیں۔

ایک ویٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب اسلام آباد کھلتا ہے تو ہرمز بند ہو جاتا ہے، اور جب ہرمز کھلتا ہے تو اسلام آباد بند ہو جاتا ہے۔

جمعہ تک دونوں ہی بند تھے اور کسی کو بھی صورتحال کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔