ایران میں کوئی سخت گیر یا اعتدال پسند نہیں، سب ایرانی اور انقلابی ہیں، مسعود پزشکیان
- یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں سخت گیر یا اعتدال پسند کی کوئی تقسیم موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم متحد ہے اور سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔
یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور ہارڈ لائنرز اور موڈریٹس کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ٹرمپ نے اس صورتحال کو افراتفری قرار دیا تھا۔
مسعود یزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم سب ایرانی ہیں، ایک قوم اور ایک راستے پر گامزن ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان مضبوط اتحاد اور سپریم لیڈر کی قیادت میں ہم دشمن کو پچھتانے پر مجبور کریں گے۔
ادھر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر نہیں سکتا اور یہ راستہ اس وقت تک مکمل طور پر بند رہے گا جب تک ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔
ان بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور بحری تجارت پر بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔